اشاعتیں

ماں نے کمال کر دکھایا

 ❤❤❤🫶🏻 ❤❤❤ ایک تابعی بزرگ تھے حضرت ابو عبدالرحمن فروخؒ صاحب تاریح بغداد نے لکھا ہے کہ اپنے بیوی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ترکستان میں جہاد ہو رہاہے میں چلا جاٶ بیوی کہنے لگی میں حاملہ ہو فرمانے لگے تو اور تیرا حمل اللہ کے سپرد یہ تیس ہزار درہم ہے یہ تو رکھ لے اور مجھے اجازت دے میں اللہ کے راستے میں جاٶ فروحؒ نکلے ایک ماہ ایک سال دو سال تین سال کوئی خبر نہیں فروح کہاں گئے پیچھے  بیٹا پیدا ہوا پروان چڑھا جوان ہوا بیوی کی جوانی ڈھل رہی اپنے حاوند کے انتظار میں دیواروں کے ساتھ جوانی گزر رہی ہے سیاہی سفیدی میں بدل گئی رونق جھریوں میں بدل گئی جوانی بڑھاپے میں بدل گئی وہ پھر بھی انتظار کرتی رہی کہ کبھی تو آئے گا تیس برس گزر گئے لیکن فروخ کا کوئی پتہ نہیں کبھی خبر آتی کہ زندہ ہے کبھی خبر آتی کہ شہید ہوگئے ایک رات لوگ عشاہ پڑھ کے جا چکے کہ ایک بڑے میاں ہتھیار سجائے ہوئے مدینے میں داحل ہوئے اپنے حیالات میں غلطاں وپیشماں پریشان و حیران یہ کون ہے یہ وہ جوان ہے جو جوانی میں نکلا تھا کالے داڑھی کے ساتھ آج لوٹا ہے سفید داڑھی کے ساتھ اس سوچ میں ہے کہ بیوی زندہ بھی ہے کہ مر گئی حاملہ تھی کی...

مولانا فضل الرحمن کا پارلیمانی کردار

تصویر
 مولانا فضل الرحمن کا پارلیمانی کردار پاکستان کی سیاست میں مولانا فضل الرحمن کا شمار ان سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جو طویل عرصے سے پارلیمانی سیاست میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ مولانا کی سیاست کو صرف حکومت یا اپوزیشن کے تعلق سے دیکھنا کافی نہیں۔ ان کے سیاسی سفر میں پارلیمنٹ، آئین، قانون سازی، سیاسی مکالمہ اور عوامی مسائل مسلسل اہم موضوعات رہے ہیں۔ اسی لیے مولانا فضل الرحمن کی سیاسی جدوجہد کا ایک بڑا پہلو ان کی پارلیمانی سیاست ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی پارلیمانی سیاست کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ بات سامنے رکھنی چاہیے کہ پارلیمنٹ میں اختلاف حکومت دشمنی نہیں ہوتا۔ اپوزیشن کا کام حکومت کے ہر فیصلے کی مخالفت کرنا بھی نہیں اور حکومت کا کام اپوزیشن کی ہر بات مسترد کرنا بھی نہیں۔ پارلیمنٹ اس لیے ہوتی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے مؤقف پیش کریں، ایک دوسرے کو سنیں اور قانون سازی و قومی معاملات پر بحث کے ذریعے راستہ نکالیں۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاسی زندگی میں اسی پارلیمانی راستے کو اہمیت دی۔ مختلف ادوار میں سیاسی حالات تبدیل ہوئے، حکومتیں بدلیں، اتحاد بنے اور ختم ہوئے، لیکن ان کی سیا...

علم، ٹیکنالوجی اور ہمارا شعبہِ فکر: کیا ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں؟حقیقی علم وہ ہے جو انسان کو جوڑنا سکھائے، توڑنا نہیں

تصویر
  یہ رہا ایک زبردست اور فکر ا: عنوان: علم، ٹیکنالوجی اور ہمارا شعبہِ فکر: کیا ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں؟ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ٹیکنالوجی نے انسان کی زندگی کو انتہائی آسان اور تیز رفتار بنا دیا ہے۔ پلک جھپکتے ہی ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور لوگوں سے جڑ سکتے ہیں۔ لیکن اس تیز رفتار دور میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ—کیا معلومات کا یہ طوفان ہمیں واقعی دانشمند اور با شعور بنا رہا ہے؟ سوشل میڈیا اور ہماری ذہنی تربیت ہم روزانہ سینکڑوں پوسٹس، خبریں اور ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ لیکن اکثر ہم کسی بات کی گہرائی میں جائے بغیر، صرف سطحی معلومات کو سچ مان لیتے ہیں۔ یاد رکھیے، سوشل میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے نظریات اور سوچ کی تشکیل کر رہا ہے۔  * تحقیق کی عادت: ہر دیکھی یا سنی بات پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے بجائے، اس کی سچائی اور منطق کو سمجھنا ضروری ہے۔  * مثبت مواد کا انتخاب: ہم انٹرنیٹ پر جیسا مواد (Content) دیکھتے ہیں، ہماری ذہنی حالت اور سوچ بھی ویسے ہی ڈھلنے لگتی ہے۔ ٹیکنالوجی اور انسانیت کا توازن ٹیکنالوجی ایک بہترین ذریعہ ...

چیونٹی کی محنت مشعل راہ

تصویر
  چیونٹی جثے میں انتہائی چھوٹی اور بظاہر کمزور مخلوق نظر آتی ہے، لیکن اس کا عزم، ہمت اور مستقل مزاجی انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ قدرت نے اس ننھے سے وجود کے اندر محنت اور استقلال کا ایسا جذبہ چھپا رکھا ہے جو بڑی بڑی ہستیوں کو حیران کر دیتا ہے۔ چیونٹی کے عزم سے حاصل ہونے والے اہم اسباق  * ناقseries کامیابی و مستقل مزاجی: چیونٹی کبھی ہار نہیں مانتی۔ اگر اس کا راستہ روک دیا جائے تو وہ اپنا وقت ضائع کیے بغیر نیا راستہ تلاش کر لیتی ہے۔ وہ آگے، پیچھے، یا اوپر چڑھ کر اپنی منزل کی طرف پیش قدمی جاری رکھتی ہے۔  * وزن سے زیادہ محنت: چیونٹی اپنے وزن سے کئی گنا زیادہ بھاری خوراک اٹھا کر میلوں کا سفر طے کرتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد کی سچی لگن جسمانی ساخت سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔  * مستقبل کی منصوبہ بندی: گرمیوں کے موسم میں جب دیگر حشرات غفلت میں ہوتے ہیں، چیونٹی سردیوں کی سختیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خوراک ذخیرہ کرنے میں دن رات ایک کر دیتی ہے۔  * باہم تعاون اور نظم و ضبط: چیونٹیوں کی زندگی نظم و ضبط اور باہمی تعاون کی بہترین مثال ہے۔ وہ مل جل کر کام کرتی ہیں اور مشکل سے ...

جشن آزادی مبارک

تصویر
  آج کے اس مبارک دن، میں آپ سب کے جذبے اور محبتِ وطن کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ہم سب مل کر ایک مستحکم، خوشحال اور روشن پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ آئیے، ہم اپنے اتحاد اور محنت سے اپنے پیارے وطن کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ پاکستان زندہ باد!" #پاکستان_زندہ_باد #جمعیت_علمائے_اسلام_پاکستان  #خدابخش_جمعیت_علمائے_اسلام #KhudaBuxJUI_Pakistan

پی ٹی آئی اتحاد پر جی یو آئی کے مطالبات

تصویر
  ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی مسلسل رابطوں اور اتحاد کی کوششوں کے جواب میں جمعیت علماء اسلام نے 3 نکاتی معاہدے کی ضمانت مانگی ہے۔   نمبر 1 پی ٹی آئی کو "اس رائی لی ایجنڈے" سے دستبردار ہونا ہوگا نمبر 2 پی ٹی آئی کو قادیانیوں کے ساتھ رابطوں اور ان کے لیے نرم گوشہ رکھنے سے بھی دستبردار ہونا ہوگا  مبر 3 کچھ اسلامی قوانین کے تحفظ اور کچھ کے نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا یقیناً یہ نکات بہت سنجیدہ ہیں اور انہی اختلافات کی وجہ سے دونوں جماعتوں کے درمیان دوری ہے اس لیے فی الحال پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے ان شرائط پر جمعیت سے اتحاد ممکن نظر نہیں آتا اور ان کے بغیر جمعیت کا اتحاد بھی ممکن نہیں لہذا جمعیت کے کارکن کسی تشویش یا خوش فہمی کا شکار نہ ہوں البتہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ضرور سوچنا ہوگا کہ یا تو پی ٹی آئی کا "اصلی چہرہ" سامنے آئے گا یا انہیں جمعیت کے مطالبات ماننے ہوں گے

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس 04 اگست 2026

تصویر
  قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس  04 اگست 2026 میرے خیال میں ہم پہلے ہنہ اوڑک کا اور زیارت کے شہداء کے لیے اور باقی بھی جو دوست جہاں وفات پائے ہیں یا شہیــد ہوئے ہیں، ان کے لیے دعائے فاتحہ کریں۔ دعائے مغفرت کے بعد میرے خیال میں بہتر یہ ہوگا کہ آپ حضرات کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو وہاں سے شروع کر لیتے ہیں میں پھر آپ کو جوابات دے دوں گا۔ صحافی: بلوچستان کے موجودہ حالات پر آپ کیا کہیں گے؟ دیکھیے! بلوچستان کے حالات کو، جو پورے ملک کے حالات ہیں، ہمارے صوبہ خیبر پختون خواہ میں ہیں، یہاں پر بلوچستان میں ہیں، حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے، مسلــح گروہ ہیں اور مختلف علاقوں میں اضطراب ہے، عوام پریشان ہیں، ان کی زندگی اجیرن ہے اور حالات اب ایسے ہیں کہ لوگ اپنی علاقوں میں، اپنے دیہاتوں میں، اپنے محلوں میں، اپنے گھروں میں محفوظ نہیں سمجھتے اپنے آپ کو، اپنے بچے اب وہ تعلیم کے لیے سکول نہیں بھیج سکتے، محنت مزدوری کے لیے اور حلال کمائی کے لیے ان کے راستے بند ہو چکے ہیں۔ تو یہ تمام حالات ہیں جو اس وقت ملک اس کا سامنا کر رہا ہے لیکن ملک کو چلانے والے اس س...

جمعیت علمائے اسلام پاکستان: ایک سو سالہ تاریخ، لازوال نظریات اور جمہوری جدوجہد پر طائرانہ نظر

تصویر
 جمعیت علمائے اسلام پاکستان: ایک سو سالہ تاریخ، لازوال نظریات اور جمہوری جدوجہد جمعیت علمائے اسلام پاکستان برصغیر پاک و ہند کی ان تاریخ ساز سیاسی و مذہبی تحریکوں کا تسلسل ہے جس کی جڑیں دارالعلوم دیوبند اور شیخ الہند مولانا محمود حسن کی تحریکی بصیرت میں پیوست ہیں۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی، آئینی اور مذہبی تاریخ کا ایک مضبوط ستون ہے، جس نے ہر دور میں اسلامی اقدار کے تحفظ، جمہوریت کی بحالی اور عوامی حقوق کے لیے بے باک آواز بلند کی ہ تاریخ اور عظیم علمی و سیاسی پس منظر جمعیت علمائے اسلام کی بنیادی فکر کی آبیاری برصغیر کے جلیل القدر علماء نے کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد، مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمودؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ اور دیگر اکابرین نے اس پلیٹ فارم سے پاکستان کو ایک واقعی اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے تاریخی کردار ادا کیا۔ 1973ء کا متفقہ آئین جمعیت علمائے اسلام کا وہ شاندار اور تاریخی کارنامہ ہے جسے سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ مولانا مفتی محمودؒ نے اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے دیگر تمام جماعتوں کو ایک نقطے پر جمع کیا اور آ...

اسلام اور جدید سائنس: فکر اور آگہی کا سفر

اسلام اور جدید سائنس: فکر اور آگہی کا سفر انسان ہمیشہ سے کائنات کے رازوں کی تلاش اور حقیقت کی کھوج میں رہا ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو کائنات، زمین و آسمان اور اپنی ذات کے اندر غور و فکر کرنے کی بار بار دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: > "کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی حکومت پر اور جو چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں ان پر غور نہیں کیا؟" > (سورۃ الاعراف: 185) >  علم کی اہمیت اور اسلامی تاریخ اسلام نے پہلے ہی دن سے "اقرأ" (پڑھیے) کا نعرہ دے کر انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف گامزن کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے دھارے میں مسلمانوں نے نہ صرف دینی علوم میں بلکہ طب، فلکیات، ریاضی اور طبیعیات میں بھی وہ کارنامے سرانجام دیے جو آج کی جدید سائنس کی بنیاد بنے۔  * ابن الہیثم: جنہیں بصریات (Optics) اور کیمرے کا بانی مانا جاتا ہے۔  * ابن سینا: جن کی کتاب "القانون فی الطب" صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی۔  * البیرونی: جنہوں نے زمین کا محیط اور رداس اس دور میں معلوم کیا جب جدید الات کا تصور بھی نہیں تھا۔ جدید سائنس اور قرآنی حقائق...

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا

 نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔ https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-7464355867036385 کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں،   میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ...

اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026

 اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026 کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت اہلِ کشمیر کا احتجاج جاری ہے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، وہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے 5 جون 2026ء کو جب حالات خراب ہوئے، کشیدگی بڑھ گئی، حکومت اور کمیٹی کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی، تو کمیٹی نے مجھے پیغام بھیجا۔ ایک بہت بڑے وفد کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور تحریری طور پر مجھ سے ثالثی  کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔ میں نے ثالثی  کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی اپیل پر لبیک کہا۔ اس کے بعد میرا رابطہ حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور جناب سردار کامران اعظم خان صاحب کے ذریعے ان کے ساتھ رہا۔ اس پورے دورانیے میں، جہاں کمیٹی نے مجھ پر اعتماد کیا اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی، وہاں حکومت نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ سیاسی حل کی طرف متوجہ ہونے کے لیے بھی حکومت تیار نہ ہوئی، بلکہ طاقت کے ذریعے ان کی تحریک کو کچلنے پر مصر رہی، جو نہایت اف...

ڈیجیٹل دور اور حق گوئی: کیا سوشل میڈیا پر خاموشی بھی ایک جرم ہے؟

تصویر
ڈیجیٹل دور اور حق گوئی: کیا سوشل میڈیا پر خاموشی بھی ایک جرم ہے؟ آج ہم ایک ایسے سائنسی اور ڈیجیٹل دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں دنیا کا ہر انسان ایک "میڈیا ہاؤس" بن چکا ہے۔ ماضی میں ظالم اپنے ظلم کو چار دیواری کے پیچھے چھپا لیا کرتا تھا، لیکن آج سوشل میڈیا کے اس دور میں ظلم سیکنڈوں میں پوری دنیا کے سامنے آ جاتا ہے۔ اس کے باوجود، ایک المیہ یہ ہے کہ جیسے جیسے ظلم کو بے نقاب کرنے کے ذرائع بڑھے ہیں، ویسے ہی مصلحت پسندی، خوف اور "اپنے کام سے کام رکھنے" کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے ۔ سیاستِ شرعیہ (Islamic Political Principles) اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، جب ہم آج کے دور کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ سوال شدت سے سامنے آتا ہے کہ: کیا اس ڈیجیٹل دور میں ظلم پر خاموش رہنا یا ری ایکٹ (React) نہ کرنا بھی ہمیں ظالم کا شریکِ جرم بنا رہا ہے؟ 1. الیکٹرانک دور کا 'ابو جہل' اور ہماری ذمہ داری دورِ نبوی میں کلمۂ حق کہنے کا مطلب سیدھا تلواروں کے سایہ میں آنا تھا۔ آج کے دور کا جابر سلطان صرف حکمران یا وڈیرا نہیں ہے، بلکہ وہ جھوٹا پروپیگنڈا، فیک نیوز، اور وہ طاقتور مافیاز ہیں جو انٹرنی...

جب معاشرے میں ظلم بڑھ جائے تو ایک عام مسلمان کی ذمہ داری

 جب معاشرے میں ظلم بڑھ جائے تو ایک عام مسلمان کی ذمہ داری معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور جب کسی معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور حق تلفی حد سے بڑھنے لگے تو اس کا نقصان صرف مظلوم تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو تنہا جینے کی نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار سماجی وجود بن کر رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جب معاشرے میں ظلم عام ہو جائے، تو ایک عام مسلمان محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتا۔ شریعت اور سیاستِ شرعیہ کی روشنی میں، اس پر چند اہم ترین ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں: 1. ظلم کو روکنے کی عملی و فکری کوشش (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) ایک عام مسلمان کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ظلم کے خلاف کھڑا ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "تم میں سے جو کوئی برائی (یا ظلم) دیکھے، تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے؛ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے (اس کے خلاف آواز اٹھائے)؛ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔" (صحیح مسلم) اس حدیث کی روشنی میں، اگر ایک عام شخص کے پاس انتظامی اختیار نہیں ہے ...

*قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی ذاتی اور سیاسی زندگی پر مبنی خصوصی پوڈکاسٹ،

*قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی ذاتی اور سیاسی زندگی پر مبنی خصوصی پوڈکاسٹ، کاشف الدین سید کے ساتھ   

توہین رسالت

توہین رسالتۖ! مولانا فضل الرحمن کا درست موقف نوید مسعود ہاشمی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس کا ایک وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔جس میں وہ فرما رہے ہیں کہ ''مذہبی حوالے سے،توہین رسالت یا توہین مذہب کے مقدمات کے کے حوالے سے جب عدالتوں نے فیصلے سنا دیئے ہیں، لوگوں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں تو ان مقدمات کے متعلق کمیشن بنانا،ان تجاویز پر بات کرنا ملک میں نئے نئے ہنگامے کھڑے کرنے والی بات ہے''۔یہ گفتگو مولانا فضل الرحمن نے سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ۖ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث زیر حراست گستاخوں کے رشتہ داروں کی جانب سے مذکورہ گستاخوں کے خلاف درج مقدمات کے متعلق انکوائری کمیشن کے قیام کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر پٹیشن کے تناظر میں فرمائی ہے۔اس وقت سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث تقریباً ساڑھے چار سو گستاخوں کے خلاف مقدمات ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ان میں سے اب تک 40گستاخوں کے خلاف مقدمات کی سماعت مکمل ہو چکی ہے اور عدالتیں ان 40گس...

سیاسی اصول

 *اصولوں کی سیاست یا اقتداری سرگس؟*  سیاست میں قیادت کے کئی ماڈل پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، نظریہ بیچ سکتے ہیں، اصولوں کا جنازہ نکال سکتے ہیں اور وقت کے فرعونوں کے در پر سجدہ ریز ہو سکتے ہیں۔ ایسے سیاستدان جب عوام کے سامنے آتے ہیں تو خود کو نظریاتی، انقلابی اور مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر درحقیقت وہ وقت کے ساتھ رنگ بدلنے والے موسمی پرندے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے نظریہ اور اصول محض تقریریں چمکانے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے، جب کہ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو اصولوں پر ثابت قدم رہے، نظریے کی پہچان بنے، اور وقتی مفادات کی بجائے دیرپا مشن کے لیے کھڑی رہے۔ ایک لیڈر کی سب سے بڑی پہچان اس کا واضح سیاسی ویژن ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں کئی "بڑے سیاستدان" ایسے بھی ہیں جن کا ویژن اقتدار کے ساتھ ہی بدل جاتا ہے۔ اقتدار میں ہوں تو جمہوریت کے چیمپئن، اپوزیشن میں آئیں تو انقلاب کے داعی، اور مشکل میں پھنسیں تو این آر او کے طلبگار! یہ وہ طبقہ ہے جس کا سیاسی ویژن صرف اپنے مفادات کی حد تک محدود ہے، عوام اور ملک سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔ جب اقتدار میں ہوتے ہیں ...

مولانا فضل الرحمان

تصویر
  *قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا جامعہ نصرت العلوم گجرانوالہ میں تقریب سے خطاب* 01 فروری 2025 *الْحَمْدُ للهِ نَحْمَدُه ونستعينُه ، ونستغفرُه ، ونؤمن به، ونتوكل عليه، ونعوذُ باللهِ من شرورِ أنفسِنا ، ومن سيئاتِ أعمالِنا ، مَن يَهْدِهِ اللهُ فلا مُضِلَّ له ، ومَن يُضْلِلْه فلا هادِيَ له ، ونشهدُ أن لا إله إلا اللهُ وحدَه لا شريكَ له ، ونشهدُ أنَّ سيدنا و سندنا و مولانا مُحَمَّدًا عبدُه ورسولُه، أرسله بِٱلْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، وداعياً إلى الله بإذنه وسراجاً منيرا، صلى الله تعالى على خير خلقه محمد وعلى اله وصحبه وبارك وسلم تسليما كثيراً كثيرا. اما بعد فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم* *يُرِيدُونَ أَن يُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَيَأبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَـٰفِرُونَ، هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلهُدَىٰ وَدِينِ ٱلحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلمُشرِكُونَ۔ صدق اللہ العظیم۔* حضرات علماء کرام، بزرگان ملت، جامعہ کے فضلاء اور طلباء عزیز، میرے دوستو اور بھائیو ! میر...

ملتان فضلاء کنوینشن

تصویر
 

فضلاء کنوینشن ملتان

تصویر
 *قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا جامعہ خیر المدارس ملتان میں دستاربندی کی تقریب سے خطاب* 12 جنوری 2025 *الحمدلله الحمدلله وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آله وصحبه و من بھدیھم اھتدی، اما بعد فاعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم بسم الله الرحمٰن الرحیم* *يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ۔ صدق الله العظیم* قابل قدر انتہائی محترم حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم العالیہ، حضرت مخدوم محترم مولانا خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ، تمام اساتذہ کرام، طلبہ عزیز، میرے بزرگو، دوستو اور بھائیو! سب سے پہلے میں جامعہ کے تمام فضلاء کو جنہوں نے ایک طویل عرصہ مدرسے کے احاطے میں دل کی دنیا کو روشن کرنے میں گزارا، وحی کے علوم سے مالامال ہوئے، تمام حفاظ کرام، قراء حضرات جنہوں نے قرات میں مہارت حاصل کی ہے، میں ان تمام اپنے برخورداروں کو دل کی گہرائیوں سے ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی پوری زندگی چاہے دنیاوی ہو، چاہے برزخی ہو، چاہے اخروی ہو اسے تروتازہ رکھے۔ ہمارے شیخ حضرت ...

بیعت ہی نہیں تو پہر خروج کیسے

 

ہمارے سوسائٹی میں فرقہ وارانہ عناصر موجود ہیں

تصویر
 ہمارے سوسائٹی میں فرقہ وارانہ عناصر موجود ہیں اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا، اور وہ فرقہ وارانہ عناصر جب آپس میں لڑتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف اشتعال پیدا کرتے ہیں تب پیدا کرتے ہیں جب ہماری ریاست کو اور ریاست کی کسی حکومت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے، فرقوں کو ریاستی ادارے لڑاتے ہیں، فرقوں کو حکومتیں لڑاتی ہیں، ان کے درمیان اشتعال کے پیچھے ان کی باقاعدہ منصوبہ بندی کار فرما ہوتی ہے، تو فرقوں کو لڑاتے آپ ہیں اور پھر فساد کا الزام آپ مذہبی مکاتب فکر پہ ڈالتے ہیں، ان باتوں کو ذرا سمجھنا چاہیے۔ پرسوں میرے پاس ایک قابل احترام سفیر صاحب تشریف لائے تھے، بہت سی باتوں میں انہوں نے کُرم ایجنسی کا ذکر کیا، بہت سی باتوں میں انہوں نے کرم ایجنسی کا ذکر کیا وہاں کے فسادات کی طرف اشارہ کیا، تو میں نے کہا کہ اب آپ یہ سوال کرنا چاہیں گے کہ یہ شیعہ سنی فساد ہے، یہ تو 20 22 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا قبائل ہیں لڑ رہے ہیں لیکن اگر یہ شیعہ سنی فساد ہے تو میں نے کہا کرم ایجنسی سے تھوڑا سا نیچے آئے ہیں تو ہنگو آتا ہے یہ علاقہ بھی شیعہ سنی کا علاقہ ہے، اس سے تھوڑا آگے آئیں تو خالصتاً شیعہ آبادی آتی ہے ان کے بال...

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جب معاشرے میں ظلم بڑھ جائے تو ایک عام مسلمان کی ذمہ داری

مولانا فضل الرحمن کا پارلیمانی کردار