مولانا فضل الرحمن کا پارلیمانی کردار
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
مولانا فضل الرحمن کا پارلیمانی کردار
پاکستان کی سیاست میں مولانا فضل الرحمن کا شمار ان سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جو طویل عرصے سے پارلیمانی سیاست میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ مولانا کی سیاست کو صرف حکومت یا اپوزیشن کے تعلق سے دیکھنا کافی نہیں۔ ان کے سیاسی سفر میں پارلیمنٹ، آئین، قانون سازی، سیاسی مکالمہ اور عوامی مسائل مسلسل اہم موضوعات رہے ہیں۔ اسی لیے مولانا فضل الرحمن کی سیاسی جدوجہد کا ایک بڑا پہلو ان کی پارلیمانی سیاست ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی پارلیمانی سیاست کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ بات سامنے رکھنی چاہیے کہ پارلیمنٹ میں اختلاف حکومت دشمنی نہیں ہوتا۔ اپوزیشن کا کام حکومت کے ہر فیصلے کی مخالفت کرنا بھی نہیں اور حکومت کا کام اپوزیشن کی ہر بات مسترد کرنا بھی نہیں۔ پارلیمنٹ اس لیے ہوتی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے مؤقف پیش کریں، ایک دوسرے کو سنیں اور قانون سازی و قومی معاملات پر بحث کے ذریعے راستہ نکالیں۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاسی زندگی میں اسی پارلیمانی راستے کو اہمیت دی۔ مختلف ادوار میں سیاسی حالات تبدیل ہوئے، حکومتیں بدلیں، اتحاد بنے اور ختم ہوئے، لیکن ان کی سیاسی جدوجہد کا مرکز پارلیمانی عمل ہی رہا۔ یہی طویل تجربہ انہیں پاکستانی سیاست کے مختلف ادوار کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔
مولانا کے بارے میں ایک عام اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ وہ مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کیوں رکھتے ہیں۔ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے سیاست میں رابطہ ختم کرنا اور اختلاف ختم کرنا ایک چیز نہیں۔ ایک سیاسی جماعت کسی معاملے پر کسی دوسری جماعت کے ساتھ کھڑی ہوسکتی ہے اور دوسرے معاملے پر اس کی مخالفت بھی کرسکتی ہے۔ سیاسی ملاقات کو فوراً نظریاتی اتحاد قرار دینا درست سیاسی تجزیہ نہیں۔
مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں سیاسی رابطے کی یہی اہمیت ہے۔ وہ اختلاف کے باوجود بات چیت کا راستہ کھلا رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے اصول چھوڑ دیتے ہیں۔ بلکہ جمہوری سیاست میں اپنے مؤقف کے ساتھ دوسرے فریق سے بات کرنا ہی سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ جو شخص اپنے مخالف سے بات نہیں کرسکتا، وہ اختلاف کو حل کرنے کی سیاست کیسے کرے گا؟
ان کی پارلیمانی جدوجہد کا ایک اہم پہلو آئینی اور جمہوری اداروں کا تحفظ ہے۔ پارلیمنٹ صرف قانون منظور کرنے کی جگہ نہیں بلکہ حکومت سے سوال کرنے، عوامی مسائل اٹھانے اور ریاستی فیصلوں پر بحث کرنے کا ادارہ ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں اختلاف کی گنجائش کم ہوجائے تو جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے۔ حکومت کو اپنی اکثریت پر اعتماد ہونا چاہیے، لیکن اکثریت کو اختلافی آواز سننے سے نہیں روکنا چاہیے۔
قانون سازی کے معاملے میں بھی یہی اصول اہم ہے۔ کسی بھی اہم قانون کو جلدی میں منظور کرنے کے بجائے اس پر بحث، مشاورت اور اس کے آئینی و قانونی اثرات کا جائزہ ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کی مضبوطی صرف اس بات میں نہیں کہ قانون کتنے ووٹوں سے منظور ہوا، بلکہ اس میں ہے کہ قانون بناتے وقت کتنی سنجیدگی سے بحث ہوئی اور مختلف آرا کو کتنی جگہ دی گئی۔
مولانا فضل الرحمن کی پارلیمانی سیاست کا ایک اہم پہلو عوامی اور علاقائی مسائل بھی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے علاقوں میں امن و امان، معاشی مشکلات اور سیاسی بے اعتمادی کے مسائل کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان مسائل کا تعلق سیاست، معیشت، انصاف اور عوام کے ریاست پر اعتماد سے بھی ہے۔ پارلیمنٹ کو ان مسائل پر سنجیدہ بحث کا مرکز بننا چاہیے۔
خصوصاً ان علاقوں میں جہاں عوام خود کو نظرانداز محسوس کرتے ہیں، وہاں ریاستی پالیسی میں سیاسی شمولیت اور عوامی اعتماد کو اہمیت دینا ضروری ہے۔ صرف انتظامی اقدامات سے دیرپا مسائل حل نہیں ہوتے۔ عوام کو یہ یقین دلانا بھی ضروری ہے کہ ان کی آواز سنی جارہی ہے اور ان کے مسائل قومی ترجیحات میں شامل ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا ایک دوسرا نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے حامی نہیں۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف ہمیشہ رہا ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سیاسی مخالف کو قومی دشمن سمجھ لیا جائے۔ جمہوریت میں حکومت بھی ضروری ہے اور مضبوط اپوزیشن بھی۔ دونوں ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کیے بغیر جمہوری نظام کو مستحکم نہیں کرسکتیں۔
اسی اصول کا اطلاق سیاسی کارکنوں اور سیاسی آزادیوں پر بھی ہونا چاہیے۔ حکومت سے اختلاف کرنا جرم نہیں۔ اگر کسی سیاسی جماعت یا رہنما کے مؤقف سے اختلاف ہے تو اس کا جواب سیاسی اور قانونی طریقے سے دیا جانا چاہیے۔ گرفتاری، مقدمہ یا پابندی کسی سیاسی اختلاف کا مستقل حل نہیں ہوسکتے۔ آج اگر ایک جماعت کے لیے سیاسی آزادی محدود ہوگی تو کل یہی مسئلہ دوسری جماعت کے سامنے بھی آسکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی پارلیمانی سیاست پر تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن تنقید دلیل کے ساتھ ہونی چاہیے۔ ان کے ہر سیاسی فیصلے کو درست قرار دینا بھی مناسب نہیں اور ہر فیصلے کو مفاد پرستی کہنا بھی۔ کسی سیاسی رہنما کے فیصلے کو سمجھنے کے لیے اس وقت کے حالات، دستیاب سیاسی راستوں اور فیصلے کے مقصد کو دیکھنا ضروری ہے۔
یہاں مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے وہ سیاسی حکمتِ عملی کو حالات کے مطابق تبدیل کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ لیکن حکمتِ عملی کی تبدیلی کو نظریے کی تبدیلی سمجھ لینا درست نہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے بنیادی اصول برقرار رکھتے ہوئے مختلف حالات میں مختلف سیاسی راستے اختیار کرسکتی ہیں۔
جمعیۃ علماء اسلام کے لیے بھی یہی وقت ہے کہ اپنی پارلیمانی قوت کو مزید مؤثر بنائے۔ جماعت کی اصل طاقت صرف نشستوں کی تعداد نہیں بلکہ اس کی تنظیم، عوامی رابطہ، نظریاتی شناخت اور طویل سیاسی تجربہ ہے۔ اگر ان قوتوں کو عوامی مسائل اور واضح پارلیمانی ایجنڈے کے ساتھ جوڑا جائے تو جے یو آئی قومی سیاست میں مزید مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔
آج عوام کو صرف یہ جاننے میں دلچسپی نہیں کہ کون حکومت میں ہے اور کون اپوزیشن میں۔ عوام یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل پر کون بات کرتا ہے، مہنگائی کے خلاف کون آواز اٹھاتا ہے، امن و امان کے لیے کون سنجیدہ ہے، صوبائی مسائل کو کون پارلیمنٹ میں لاتا ہے اور قانون سازی میں کون عوام کے مفاد کو سامنے رکھتا ہے۔
اسی لیے مولانا فضل الرحمن کی پارلیمانی جدوجہد کو صرف سیاسی اتحادوں کے حوالے سے دیکھنا ان کے کردار کو محدود کردینا ہے۔ ان کی اصل سیاسی اہمیت اس بات میں ہے کہ انہوں نے کئی سیاسی ادوار میں پارلیمنٹ کو اپنی جدوجہد کا اہم میدان بنائے رکھا اور سیاسی اختلاف کے باوجود مکالمے کا راستہ کھلا رکھا۔
مولانا فضل الرحمن سے اختلاف ہوسکتا ہے، ان کے سیاسی فیصلوں پر سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن ان کی طویل پارلیمانی جدوجہد کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں ان کا کردار اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
پارلیمنٹ میں اصولی سیاست کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معاملے پر تنہا کھڑا ہوا جائے۔ اصولی سیاست کا مطلب یہ ہے کہ جہاں اصول کا سوال ہو وہاں مؤقف واضح ہو، جہاں قومی مفاد کا معاملہ ہو وہاں سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے اور جہاں عوام کے حقوق کا سوال ہو وہاں حکومت سے جواب طلب کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمن کی پارلیمانی سیاست کو اسی معیار پر پرکھنا چاہیے: وہ کس کے ساتھ بیٹھے، اس سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ وہ کس مؤقف کے ساتھ بیٹھے؛ کس سے اختلاف کیا، اس سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ اختلاف کس مسئلے پر تھا؛ اور کس سے تعاون کیا، اس سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ تعاون کا مقصد کیا تھا۔
پاکستان کو ایسی پارلیمانی سیاست کی ضرورت ہے جس میں اختلاف بھی ہو، دلیل بھی ہو، مکالمہ بھی ہو اور عوامی مفاد بھی۔ مولانا فضل الرحمن کی طویل پارلیمانی جدوجہد کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ انہوں نے سیاسی عمل کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جاری رکھا۔
پارلیمنٹ صرف حکومت بنانے کا راستہ نہیں؛ یہ عوام کی آواز، اختلاف کی جگہ اور قومی فیصلوں کی اصل سیاسی میز ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جدوجہد کو اسی پارلیمانی معیار پر سمجھنا اور پرکھنا چاہیے۔
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں