اشاعتیں

فتاویٰ انوریہ، لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ماں نے کمال کر دکھایا

 ❤❤❤🫶🏻 ❤❤❤ ایک تابعی بزرگ تھے حضرت ابو عبدالرحمن فروخؒ صاحب تاریح بغداد نے لکھا ہے کہ اپنے بیوی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ترکستان میں جہاد ہو رہاہے میں چلا جاٶ بیوی کہنے لگی میں حاملہ ہو فرمانے لگے تو اور تیرا حمل اللہ کے سپرد یہ تیس ہزار درہم ہے یہ تو رکھ لے اور مجھے اجازت دے میں اللہ کے راستے میں جاٶ فروحؒ نکلے ایک ماہ ایک سال دو سال تین سال کوئی خبر نہیں فروح کہاں گئے پیچھے  بیٹا پیدا ہوا پروان چڑھا جوان ہوا بیوی کی جوانی ڈھل رہی اپنے حاوند کے انتظار میں دیواروں کے ساتھ جوانی گزر رہی ہے سیاہی سفیدی میں بدل گئی رونق جھریوں میں بدل گئی جوانی بڑھاپے میں بدل گئی وہ پھر بھی انتظار کرتی رہی کہ کبھی تو آئے گا تیس برس گزر گئے لیکن فروخ کا کوئی پتہ نہیں کبھی خبر آتی کہ زندہ ہے کبھی خبر آتی کہ شہید ہوگئے ایک رات لوگ عشاہ پڑھ کے جا چکے کہ ایک بڑے میاں ہتھیار سجائے ہوئے مدینے میں داحل ہوئے اپنے حیالات میں غلطاں وپیشماں پریشان و حیران یہ کون ہے یہ وہ جوان ہے جو جوانی میں نکلا تھا کالے داڑھی کے ساتھ آج لوٹا ہے سفید داڑھی کے ساتھ اس سوچ میں ہے کہ بیوی زندہ بھی ہے کہ مر گئی حاملہ تھی کی...

محرم میں سبیل لگانا

محرم میں سبیل لگانا اور اس سے پینے کاحکم  سوال محرم کے مہینے میں پہلے دس دن ہرجگہ پانی کی سبيل لگائی جاتی ہے،یہ پانی پینا کیسا ہے ؟   جواب واضح رہے کہ خاص محرم کے مہینے میں ہی جگہ جگہ سبیل لگا کر شربت بنا کر لوگوں میں تقسیم کرنے کو کار ثواب سمجھنا بدعت اور تشبہ بالروافض کی وجہ سے ناجائز ہے ۔ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”محرم میں ذکر شہادت حسین کرنا اگرچہ بروایات صحیحہ ہو یا سبیل لگانا، شربت پلانا یا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب نادرست اور تشبہ روافض کی وجہ سے حرام ہیں“۔ (فتاوی رشیدیہ، ص:۱۳۹،دارالاشاعت ) لہذا صورت مسئولہ میں محرم الحرام میں سبیل لگانا غلط عقائد پر مبنی اور روافض کا شعار ہے، لہذا مسلمانوں کو ان خاص دنوں میں ان مروجہ سبیلوں سے پانی یا شربت پینا یا کوئی چیز کھانے سے بچنا چاہیے۔ حديث شريف ميں هے : "عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من تشبه بقوم فهو منهم." (کتاب اللباس،باب فی لبس الشھرہ،144/6، دار الرسالة العالمية) فیض القدیرمیں ہے : "من سود بفتح السين وفتح الواو المشددة بضبطه أي من ...

عشر کیا ہے

 ہر وہ زمین جس کو ایسے پانی سے سیراب کیا جائے جس میں خرچہ آتا ہو (مثلاً ٹیوب ویل وغیرہ کے ذریعے) اس میں نصفِ عشر یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ (%5) دینا واجب ہے، اور اگر خرچہ نہ آتا ہو تو اس میں عشر (دسواں حصہ یعنی ٪10) دینا ضروری ہے۔ نیز پیداوار پر جو دیگر اخراجات آتے ہیں ۔ان میں یہ تفصیل ہے کہ وہ اخراجات جو زمین کو کاشت کے قابل بنانے سے لےکر پیداوار حاصل ہونے اور اس کو سنبھالنے تک ہوتے ہیں یعنی وہ اخراجات جو زراعت کے امور میں سے ہوتے ہیں مثلاً زمین کو ہم وار کرنے، ٹریکٹر چلانے، مزدور کی اجرت وغیرہ یہ اخراجات عشر ادا کرنے سے پہلے منہا نہیں کیے جائیں گے، بلکہ عشر یا نصفِ عشر اخراجات نکالنے سے پہلے پوری پیداوار سے ادا کیا جائے گا۔البتہ پیداوار کی کٹائی کے بعد وہ اخراجات جو زراعت (کھیتی باڑی) کے امور میں سے نہیں ہوتے ، جیسے پیداوار کو منڈی تک پہنچانے کا کرایہ، اسی طرح پیکنگ، لوڈنگ وغیرہ کے جو اخراجات آئیں تو ایسے اخراجات عشر ادا کرنے سے پہلے منہا کیے جاسکتے ہیں ۔   https://www.google.com/adsense/new/u/0/pub-7464355867036385/arc/ca-pub-7464355867036385?e...

پردہ کا خاص حکم

 پردے کا خصوصی حکم   ارشاد باری تعالیٰ ہے  اور جب تم لوگ ازواج مطہرات میں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو اللہ تعالی نے یہ حکم امت مسلمہ کو دیا ہے کہ امہات المومنین کے دروازے پر ھجوم نہ کریں اور بغیر پردے کے ان سے کوئی چیز طلب نہ کریں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے امہات المومنین کو پردہ کرنے اور لوگوں کی نظروں سے چھپ جانے کا حکم دیا ہے ہے دور جاہلیت میں عربی عورت پردہ نہیں کرتی تھی کہ وہ محفلوں میں آتی جاتی اور مردوں کے درمیان بیٹھتی اٹھتی بات کرتی اور بازاروں میں گھومتی پھرتی تھی ابتدائے اسلام میں پردے کی ممانعت نہیں آئی تھی اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اور دوسری خواتین جنگ احد میں زخمیوں کے لیے پانی کا انتظام کرتی نظر آئیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پازیب بھی نظر آ رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر مسافروں اور مقامی لوگوں کا آنا جانا رہتا علم کے پیاسے بھی حاضر ہوتے  حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی بڑی خواہش تھی کہ امہات المومنین پر پردے کا حکم نازل ہو جائے یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی بنا پر ان کا جذبہ تھا...

فادر ڈے منانے کا شرعی حکم کیا ہے؟

  فادر ڈے منانے کا شرعی حکم کیا  فادرز ڈے (Father's Day) یا مدرز ڈے (Mother's Day) یا اسی طرح دیگر دن منانا کوئی شرعی تقریب نہیں ہے اور نہ ہی شرعاً اس کی کوئی حیثیت ہے۔ ان چیزوں کا اہتمام والتزام غیرمسلموں کی تہذیب سے مشابہت ہے، اور عموماً اس میں  خرافات بھی کی جاتی ہیں، اس لیے اسسے احتراز  اور ایسی رسموں کی حوصلہ شکنی چاہیے، اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ سال بھر والدین کی خدمت کی جائے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے، انہیں خرچ کی ضرورت ہو تو ان کے نان نفقے کی ذمہ داری اٹھائے اور ان کے لیے دعا کرتا رہے۔ البتہ اگر غیر مسلموں کی مشابہت اور دیگر غیر شرعی امور سے اجتناب کرتے ہوئے  والدین کی موجودگی پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور باہم محبت  کے اضافے  کے لیے تحفہ کا تبادلہ کیا جائے یا کچھ اچھا کھا لیا جائے (کہ آپس کی رنجشیں ختم ہو کر محبت بڑھ جائے اور اس موقع پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا جائے) تو یہ جائز ہے۔لیکن ایسے جذبات شاذ ونادر ہی کسی کے ہوتے ہیں، عموماً رسم کی پیروی میں ہی ان دنوں کو منانے کا اہتمام ہوتاہے؛ لہٰذا نعمتِ خداوندی کے شکر اور باہم مح...

میت پر قرآنی آیات کی چادر ڈالنا

کیا میت کے اوپر ایسی چادر ڈالنا جائز ہے جس پر آیت الکرسی لکھی ہوئی ہو؟ جواب جنازہ پر قرآنی آیات اور کلمہ لکھی ہوئی چادر ڈالنا درست نہیں ہے، کیوں کہ یہ شریعت سے ثابت نہیں ہے اور اس میں بے ادبی اور بے احترامی کا خطرہ ہے ۔ (از میت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، جلد:۱ ص:۶۲) الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 246):   "وقد أفتى ابن الصلاح بأنه لايجوز أن يكتب على الكفن يس و الكهف ونحوهما خوفًا من صديد الميت ... وقدمنا قبيل باب المياه عن الفتح أنه تكره كتابة القرآن وأسماء الله تعالى  على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة فالمنع هنا بالأولى".

پیسوں کی ضرورت کی وجہ سے گاڑی وغیرہ قسطوں پر مہنگی خرید کر بیچنا

پیسوں کی ضرورت کی وجہ سے گاڑی وغیرہ قسطوں پر مہنگی خرید کر بیچنا سوال مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، میں کوئی گاڑی یا کوئی زمین قسطوں پر مہنگی لے کر سستی بیچ سکتا ہوں؟  جواب صورت مسئولہ میں اگر سائل کو پیسوں کی ضرورت ہے اور وہ کسی سے قرضہ طلب کرتاہے، لیکن بلاسود قرض دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اس بنا پر وہ شخص سائل کو قرضہ دینے کے بجائے مہنگے داموں قسطوں پرکوئی گاڑی یا زمین وغیرہ خریدنے کو کہتا ہے؛ تاکہ سائل بازار میں نقد بیچ کر پیسے حاصل کرکے اس سے اپنی ضرورت پوری کرلے، مارکیٹ میں یہ طریقہ سود خوروں کی ایجاد ہے ،اصطلاحِ شریعت میں اس خرید وفروخت کو ’’بیع عینہ‘‘ کہتے ہیں جوکہ مکروہ اور قابلِ ترک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے عقد کو رسوائی اور ذلت کا سبب قرار دیا ہے۔ لیکن اگر سائل کسی سے قرض طلب کرنے کے بجائے از خود کسی سے کوئی چیز گاڑی /زمین وغیرہ قسطوں پر مہنگے داموں پر خرید کر اسے بازار میں کسی اور کے ہاتھ فروخت کرکےنقد پیسے حاصل کر کے اپنی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہے تو یہ جائز ہے۔ فتاوی شامی میں ہے:  قوله: أمر كفيله ببيع العينة) بكسر العين المهملة و...

نماز جنازہ میں دو صفوں کے بیچ کی دوری کتنی ہونی چاہئے

  نماز جنازہ میں دو صفوں کے بیچ کی دوری کتنی ہونی چاہئے جواب  نماز جنازہ میں چوں کہ رکوع، سجدہ نہیں ہے؛ اس لیے ہر دو صف کے درمیان صرف اتنا فصل کافی ہے کہ ایک صف والوں کا جسم دوسرے صف والوں کے جسم سے ٹچ نہ ہو، مثلا ڈیڑھ، دو بالشت کا فصل ہو، لوگوں میں جو مشہور ہے کہ عام نمازوں کی طرح نماز جنازہ میں بھی رکوع سجدے کے بہ قدر فصل ہونا چاہیے تو شریعت میں اس کی کچھ اصل نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کچھ ضرورت ہے ( فتاوی دار العلوم دیوبند، ۵: ۲۸۹، جواب سوال: ۲۸۱۷، مطبوعہ:مکتبہ دار العلوم دیوبند، فتاوی محمودیہ، ۸: ۵۹۸، ۵۹۹، جواب سوال: ۴۰۸۳، ۴۰۸۴، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)۔ مستفاد:و رکنھا شیئان: التکبیرات الأربع… والقیام (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳:۱۰۵، ۱۰۶، ط: 

لڑکا سنی ہے اور لڑکی شیعہ، ان دونوں کا نکاح جائز ہے یا نہیں ؟

 لڑکا سنی ہے اور لڑکی شیعہ، ان دونوں کا نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ اور جو ان کے نکاح میں شرکت کرے گا تو ان شرکت کرنے والوں کے نکاح پر کیا اثر پڑے گا ؟ جواب اگر کوئی شیعہ قرآن مجید میں تحریف، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خدا ہونے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی کا عقیدہ رکھتاہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتاہو یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتاہو، یا بارہ اماموں کی امامت من جانب اللہ مان کر ان کو معصوم مانتاہو یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں '' بدا'' کا عقیدہ رکھتاہو (یعنی -نعوذباللہ- کبھی اللہ تعالیٰ سے بھی فیصلے میں خطا ہوجاتی ہے) تو ایسا شیعہ اسلام کے بنیادی عقائد کی مخالفت کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوگا، اور ایسے شیعہ کے ساتھ مسلمان کا نکاح جائز نہیں ہوگا، خواہ وہ شیعہ لڑکی ہو اور مسلمان لڑکا اس سے نکاح کرے۔ لہٰذا اگر مذکورہ لڑکی درج بالا عقائد رکھتی ہے تو سنی لڑکے کے لیے اس سے نکاح جائز نہیں ہوگا۔ اور اگر اس کے مذکورہ عقائد نہیں ہیں یا وہ اپنے عقائد سے صدقِ دل سے توبہ کرے (اس سلسلے میں تقیہ نہ کرے) اور مذکورہ عقائد سے براء ت ...

تین پتھر عورت کے ھاتھ میں دینے سے کیا طلاق ھوگی

   شوہرنے بیوی کوجھگڑے کے وقت تین پتھربیوی کے ہاتھ میں رکھے اوریہ بات کہی  کہ " آپ مجھ سے آزادہو " اورکوئی لفظ اس کے علاوہ نہیں بولا۔ کیااس جملے سے طلاق واقع ہوئی ہے یانہیں اگرطلاق ہوئی ہے تونکاح کی دوبارہ گنجائش ہے یانہیں؟ جواب صورت مسئولہ میں شوہرکابیوی کے ہاتھ میں تین پتھررکھنے سے توکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،  البتہ اس کے ساتھ جب شوہرنےیہ کہاکہ "آپ مجھ سے آزادہو" تو اس جملے سے اس شخص کی بیوی پرایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے، نکاح ختم ہوگیاہے، مطلقہ عدت کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہے۔تاہم اگر فریقین باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح ضروری ہے،آئندہ کےلیےشوہر کے پاس دو طلاق کاحق باقی ہوگا۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 247): "(قوله: ما لم يستعمل إلا فيه) أي غالباً، كما يفيده كلام البحر. وعرفه في التحرير بما يثبت حكمه الشرعي بلا نية، وأراد بما اللفظ أو ما يقوم مقامه من الكتابة المستبينة أو الإشارة المفهومة فلا يقع بإلقاء ثلاثة أحجار إليها أو بأمرها بحلق شعرها وإن اعتقد الإلقاء والحلق ...

اقامت میں کچھ کلمات بھول جائیں

اگر اقامت کے دوران کچھ کلمات رہ جائیں تو، اقامت کہنے والا شخص چھوٹے ہوئے کلمات دہراتے ہوئے اس کے بعد کے کلمات بھی دہرادے، پوری اقامت دہرانے کی ضرورت نہیں، مثلا " قد قامت الصلاة" کہنا بھول گیا تو یہ کلمات دہراتے ہوئے "اللّٰه أكبر اللّٰه أكبر، لا إله إلا اللّٰه"بھی کہے ۔    الفتاوى الهندية - (2 / 320): "وَ يُرَتِّبُ بَيْنَ كَلِمَاتِ الْأَذَانِ وَ الْإِقَامَةِ كَمَا شُرِعَ، كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ . وَإِذَا قَدَّمَ فِي أَذَانِهِ أَوْ فِي إقَامَتِهِ بَعْضَ الْكَلِمَاتِ عَلَى بَعْضٍ نَحْوُ أَنْ يَقُولَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَبْلَ قَوْلِهِ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ فَالْأَفْضَلُ فِي هَذَا أَنَّ مَا سَبَقَ عَلَى أَوَانِهِ لَايُعْتَدُّ بِهِ حَتَّى يُعِيدَهُ فِي أَوَانِهِ وَمَوْضِعِهِ وَإِنْ مَضَى عَلَى ذَلِكَ جَازَتْ صَلَاتُهُ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ ."

پولیو مہم کے لیے ضروری تحریر

 محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جناب کے علم میں ہوگا کہ پولیو مہم مملکتِ خداداد میں انتہائی زوروشور سے جاری ہے۔ انکاری افراد کو بزور اسلحہ قطرے پلائے جاتے ہیں۔ عوام وخواص میں ایک تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا یہ قطرے مفید صحت ہیں یا نہیں؟                           { جواب } پولیو قطرے مبینہ طور پر حالیہ یا لاحقہ بیماری کے انسداد کی مہم ہے، جوکہ بنیادی طور پر طبی ماہرین کا موضوع ہے نہ کہ شرعی ماہرین کا۔ شرعی ماہرین اس مہم کے بارے میں جو بھی رائے قائم فرمائیں تو اس سے قبل پولیو کی افادیت یا مضرت کے تعین کے لیے طبی ماہرین کی رائے پر انحصار کرنا ہوگا۔ اگر طبی ماہرین پولیو کی افادیت یا ضرورت پر متفق ہوجائیں تو شرعی ماہرین پولیو مہم کو جائز اور مباح کہہ سکیںگے، اگر معاملہ برعکس ہو تو علماء شریعت کا فتویٰ بھی یقینا برعکس ہوگا۔ فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ ڈاکٹروں کا ایک طبقہ اُسے مفید بلکہ ضروری بتاتا ہے اور اس سرگرمی کو حکومت کی اجازت بلکہ تائید وحمایت بھی حاصل ہے، اس لیے اس مہم کے خلاف محاذ آرائی ...

شدید بارش یا ژالہ باری کے موقع پر اذان دینا

 شدید بارش یا ژالہ باری کے موقع پر اذان دینا شریعت میں ثابت نہیں، البتہ بعض ناگہانی آفات اورشدید مصائب وپریشانی کے مواقع پر اذان دینے کی بعض فقہاء نے اجازت دی ہے۔ فتاوی بینات میں ہے : ’’ علامہ شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ: خیرالدین رملی رحمہ اللہ کے حاشیہ بحر میں ہے کہ میں نے شافعیہ کی کتابوں میں دیکھا ہے کہ نماز کے علاوہ بھی بعض مواقع میں اذان مسنون ہے، مثلاً: نومولود کے کان میں، پریشان، مرگی زدہ، غصّے میں بھرے ہوئے اور بدخلق انسان یا چوپائے کے کان میں، کسی لشکر کے حملے کے وقت، آگ لگ جانے کے موقع پر. (شامی حاشیہ درمختار ج:۱ ص:۳۸۵)، خیرالدین رملی رحمہ اللہ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ دہشت پسندوں کے حملے کے موقع پر اذان کہنا حنفیہ کی کتابوں میں تو کہیں مذکور نہیں، البتہ شافعیہ کی کتابوں میں اس کو مستحب لکھا ہے، اس لیے ایسی پریشانی کے موقع پر اذان دینے کی ہم ترغیب تو نہیں دیں گے، لیکن اگر کوئی دیتا ہے تو ہم اس کو ”بالکل غلط حرکت“ بھی نہیں کہیں گے، البتہ نومولود کے کان میں اذان کہنا احادیث سے ثابت ہے، اور فقہِ حنفی میں بھی اس کی تصریح ہے...‘‘ (2/231) البحرالرائق میں ہے : "( قوله : و...

بارش کے چھینٹے راستے میں چلتے ہوئے پڑ جائیں تو کپڑوں کا یا جسم کا کیا حکم ہے، اسی طرح سڑک پر بائیک چلاتے ہوئے بھی؟

  بارش کے چھینٹے راستے میں چلتے ہوئے پڑ جائیں تو کپڑوں کا یا جسم کا کیا حکم ہے، اسی طرح سڑک پر بائیک چلاتے ہوئے بھی؟ جواب بارش کا پانی اگر سڑک پر جمع ہو اور وہ صرف بارش کا ہی پانی ہو، اس میں گٹر کے پانی یا دیگر نجاستوں کی آمیزش نہ ہو  تو وہ پانی پاک ہے ، کپڑوں پر لگنے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوںگے،  اور اگر بارش کے پانی میں گٹر کے پانی یا دیگر نجاستوں  کی آمیزش ہو جائے اور وہ  کسی کے کپڑے یا جسم پر لگ جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں: (1) اس علاقے میں مسلسل بارش ہوتی ہو اور اس شخص کی اس راستہ پر کثرت سے آمد ورفت ہو ، اور اس سے بچنا مشکل ہے تو  اس کیچڑ میں  اگر بعینہ نجاست نظر نہ آئے یعنی نجاست کا اثر واضح نہ ہو ، تو اسے  ایسے شخص کے حق میں  ناپاک نہیں سمجھا جائے گا، البتہ اگر یہ اسے دھو کر نماز پڑھ لے تو بہت بہتر ہے، اور اگر بعینہٖ نجاست نظر آئے تو پھر اس کو پاک کرنا ضروری ہوگا۔ (2) اس علاقے میں بارش مسلسل اتنی زیادہ نہیں ہوتی، یا اس شخص کی اس راستہ پر آمد ورفت (آنا، جانا) کم ہے، تو چوں کہ اس کے حق میں یہ ضرورت ن...

مقاصد نکاح

 مقاصد ِ نکاح اور اُس کی اہمیت  ’’ایجاب وقبول‘‘کے مخصوص الفاظ کے ذریعہ مرد وعورت کے درمیان ایک خاص قسم کا دائمی تعلق اور رشتہ قائم کرنا نکاح کہلاتا ہے، جو دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کے صرف دو لفظوںکی ادائیگی سے منعقد ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کو عبادت کا درجہ دیا۔ تمام مذاہب میں اس کو حلال قرار دیا ۔قرآن مجید میں اور اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ا کی زبانی جابجا نکاح کے لئے اپنے بندوں کو ترغیب دی۔ نکاح کے بہت زیادہ فضائل وفوائد ہیں، بطور ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ کچھ یہاں ذکر کیے جاتے ہیں: نکاح کے دنیوی واُخروی فضائل  ۱… نکاح سنت ِ انبیاء ہے: ترجمہ:’’حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: چار چیزیں انبیاء کرام (علیہم السلام) کی سنت میں سے ہیں:حیاء ،خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور نکاح‘‘۔ (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶) ۲… بے نکاح مرداوربے نکاح عورت محتاج اور مسکین ہے: ’’ابن ابی نجیح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ: مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ...

قربانی کے لیے جانوروں کی عمر

   ایک جانور بچھڑا جس کی عمر دو سال پورے ہوگئے ہیں مگر اس نے دانت اب تک گرائے نہیں ہیں کیا اسے جانور کی قربانی جائز ہے والسلام جواب شریعتِ مطہرہ میں قربانی کے جانور کی قربانی درست ہونے کے لیے ان کے لیے ایک خاص عمر کی تعیین ہے، یعنی بکرا ، بکری  وغیرہ کی عمر ایک سال، گائے، بھینس وغیرہ کی دو سال، اور اونٹ ، اونٹنی کی عمر پانچ سال پورا ہونا ضروری ہے، دنبہ اور بھیڑ  وغیرہ  اگر چھ ماہ  کا ہوجائے، لیکن وہ صحت اور فربہ ہونے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی درست ہوگی۔   اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ ان جانوروں کی اتنی عمریں ہوگئی ہیں (مثلاً: جانور کو اپنے سامنے پلتا بڑھتادیکھا ہو اور ان کی عمر بھی معلوم ہو) تو ان کی قربانی درست ہے، پکے دانت نکلنا ضروری نہیں،  بلکہ مدت پوری ہونا شرط ہے۔  تاہم آج کل چوں کہ فساد کا غلبہ ہے؛ اس لیے صرف بیوپاروی کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا احتیاطاً دانت کو عمر معلوم کرنے کے لیے علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، دانتوں کی علامت ایسی ہے کہ اس میں کم عمر کا جانور نہیں آسکتا ، ہاں...

قربانی کی دعا وطریقہ

 *قربانی کی دعا اور طریقہ*  سوال قربانی کی مکمل دعا و طریقہ کیا ہے؟ جواب ذبح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جانور کو قبلہ رو لٹانے کے بعد ’’بسم اللہ، و اللہ اکبر‘‘  کہتے ہوئے تیز دھار چھرے سے جانور کے حلق اور لبہ کے درمیان ذبح کیا جائے، اور گردن کو پورا کاٹ کر الگ نہ کیا جائے، نہ ہی حرام مغز تک کاٹا جائے، بلکہ ’’حلقوم‘‘  اور ’’مری‘‘  یعنی سانس کی نالی اور اس کے اطراف  کی خون کی رگیں جنہیں ’’اَوداج‘‘  کہا جاتا ہے کاٹ دی جائیں، اس طرح جانور کو شدید تکلیف بھی نہیں ہوتی اور سارا نجس خون بھی نکل جاتا ہے، اس طریقہ کے علاوہ باقی تمام طریقوں میں نہ ہی پورا خون نکلتا ہے اور جانور کو بلا ضرورت شدید تکلیف بھی ہوتی ہے۔ جانور کو قبلہ رخ لٹاتے ہوئے جانور کی بائیں کروٹ پر لٹانا پسندیدہ ہے، (یعنی ہمارے ملک میں جانور کی سر والی طرف جنوب میں اور دم والی جانب شمال میں ہو)، تاکہ دائیں ہاتھ سے چھری چلانے میں سہولت رہے۔  نيز جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹائے تو پہلے درج ذیل  آیت پڑھنا بہتر ہے: "إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وّ...

صدقہ فطر عید سے پہلے ادا نہ کرسکا تو کب ادا کرے؟

واضح رہے کہ صدقہ فطر عید الفطر کی نماز سے پہلے ادا کردینا چاہیے،اگر کسی مجبوری یا عذر کی وجہ سے عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا نہ کیا تو بھی صدقہ فطر ذمے پر باقی رہتا ہے،اور عید کے بعد بھی وہ صدقہ فطر ادا کرنا ذمے پر باقی رہے گا۔ نیز صدقہ فطر کا مستحق وہ فقیر اور نادار شخص ہے جو زکات کا مستحق ہو، یعنی ایسا مسلمان شخص جو سید/ ہاشمی بھی نہ ہو اور اس کے پاس ضرورت و استعمال سے زائد کسی بھی قسم کا اتنا مال یا سامان بھی نہ ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جائے۔اپنے اطراف میں ایسے کسی مستحق کو تلاش کر کے اس کو صدقہ فطر کی رقم ادا کر دیں تو آپ کا ذمہ ختم ہوجائے گا۔ 

چندہ کا طریقہ

  دینی  ضرورت کے لیے مثلاً مسجد یا مدرسہ یا کسی اور دینی مقصد کے لیے اگر چندہ کی ضرورت ہو تو  چند شرائط کی رعایت کرتے ہوئے مسجد میں چندہ کرنا جائز ہے، وہ شرائط یہ ہیں: (1) اس سے کسی نمازی کی نماز میں خلل نہ ہو۔ (2) کسی کو تکلیف نہ دی جائے، مثلاً گردن پھلانگنا یا لاؤڈ اسپیکر پر بلند آواز سے مستقل اعلانات کرتے رہنا وغیرہ۔ (3) مسجد میں شور وشغب نہ کیا جائے۔ (4) چندہ زبردستی نہ لیا جائے اور چندہ نہ دینے پر  کسی کو عار نہ دلائی جائے۔ تاہم بہتر  یہی ہے کہ چندہ مسجد سے باہر  کیا جائے، اور ضرورت پر مسجد میں صرف اعلان کرلیا جائے، لیکن مستقل اور مسلسل لاؤڈ اسپیکر پر چندے کے اعلانات کرتے رہنا جس سے محلہ کے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو یہ طریقہ  درست نہیں ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔ نیز واضح رہے کہ اگر حکومت کی طرف سے مساجد اور ان کی ضروریات کے اخراجات فراہم نہ کیے جاتے ہوں تو ہر مسجد کے اہلِ محلہ میں سے اصحابِ استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ وہ  اپنی سعادت سمجھتے ہوئے بطیبِ خاطر مسجد کے اخراجات میں اتنا تعاون کریں کہ مسجد کی ضروریات بسہولت پوری ہوسکیں، اور مسجد مسلمانوں ...

روزے کی حالت میں بیوی کے ساتھ بوس وکنار کرنا

 روزے کی حالت میں میاں بیوی کا ایک بستر میں لیٹنا جائز ہے، تاہم بے لباس لیٹنا یا بغیر حائل کے جسم ملانا، یا اپنے اوپر اعتماد نہ ہونے کے باوجود بوس و کنار کرنا، یا ہونٹوں پر بوسہ لینا یا ایک دوسرے کے اعضاءِ مستورہ کو چھونا مکروہ ہے۔  نیز روزے کی حالت میں بوس و کنار کی وجہ سے اگر منی خارج ہوجائے تو روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا لازم آئے گی۔ تاہم اگر اس دوران جماع (ہم بستری) کرلی تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم آئے گا۔ پس اگر منی (سفید گاڑھا مادہ) خارج ہوئی تھی تو روزہ فاسد ہوگیا ہے، قضا کرنا لازم ہے، البتہ اگر منی خارج نہیں ہوئی تھی صرف مذی (پانی کی طرح لیس دار مادہ) نکلی تھی تو روزہ فاسد نہیں ہوا، تاہم مکروہ ہوگیا ہے۔ بہرحال خود پر اعتماد نہ ہو یا آپ جوان ہوں تو روزے کے دوران بوس وکنار سے اجتناب کریں۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: "وَلَا بَأْسَ بِالْقُبْلَةِ إذَا أَمِنَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ الْجِمَاعِ وَالْإِنْزَالِ، وَيُكْرَهُ إنْ لَمْ يَأْمَنْ، وَالْمَسُّ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ كَالْقُبْلَةِ، كَذَا فِي التَّبْيِينِ. وَأَمَّا الْقُبْلَةُ الْفَاحِشَةُ، وَهِيَ أَنْ يَمُصَّ شَفَتَيْهَا فَتُكْرَهُ عَل...

ادھار خریدی ہوئی چیز قیمت کی ادائیگی سے پہلے آگے نفع کے ساتھ بیچنے کا حکم

  ادھار خریدی ہوئی چیز قیمت کی ادائیگی سے پہلے آگے نفع کے ساتھ بیچنے کا حکم سوال  اگر کوئی آدمی کسی سے کوئی چیز ادھار میں خرید لے اور اس کی قیمت ابھی تک نہ دی ہو، پھر ادھار لینے والا شخص اس چیز کو نقد قیمت میں نفع کے ساتھ بیچ دے تو اس کا یہ بیچنا خرید و فروخت کرنا اس چیز کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟ جواب ادھار میں خریدی ہوئی چیز کو قبضہ حاصل ہونے کے بعد ، قیمت کی ادائیگی سے پہلے آگے نفع کے ساتھ بیچنا جائز ہے، اس میں شرعًا کوئی ممانعت نہیں ہے۔  اگر ضرورت رقم کی تھی اور چیز کو حیلے کو طور پر درمیان میں لایا گیا تو یہ عمل ناجائز ہے۔ البتہ آج کل اس کی جو صورت رائج ہے کہ کسی کو قرض کی ضرورت ہو اور وہ قرض لینے آئے اور اسے قرض کی جگہ کوئی اور چیز دی جائے اور پھر وہی چیز اس سے دوبارہ خرید لی جائے، یا وہ تیسرے فرد کو بیچے اور تیسرا فرد پھر پہلے فرد کو بیچ دے، یا خریدار سے یہ کہا جائے کہ اس چیز کو فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کر لو اور مقصود گاڑی خریدنا نہ ہو، بلکہ اضافے کے بدلے قرض کا لین دین مقصود ہو تو اسے شریعت کی اصطلاح میں ’’بیعِ عینہ‘‘ کہتے ہیں جو کہ ناجائز ہے اور سو...

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026

ڈیجیٹل دور اور حق گوئی: کیا سوشل میڈیا پر خاموشی بھی ایک جرم ہے؟

جب معاشرے میں ظلم بڑھ جائے تو ایک عام مسلمان کی ذمہ داری

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا