ماں نے کمال کر دکھایا

 ❤❤❤🫶🏻 ❤❤❤ ایک تابعی بزرگ تھے حضرت ابو عبدالرحمن فروخؒ صاحب تاریح بغداد نے لکھا ہے کہ اپنے بیوی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ترکستان میں جہاد ہو رہاہے میں چلا جاٶ بیوی کہنے لگی میں حاملہ ہو فرمانے لگے تو اور تیرا حمل اللہ کے سپرد یہ تیس ہزار درہم ہے یہ تو رکھ لے اور مجھے اجازت دے میں اللہ کے راستے میں جاٶ فروحؒ نکلے ایک ماہ ایک سال دو سال تین سال کوئی خبر نہیں فروح کہاں گئے پیچھے  بیٹا پیدا ہوا پروان چڑھا جوان ہوا بیوی کی جوانی ڈھل رہی اپنے حاوند کے انتظار میں دیواروں کے ساتھ جوانی گزر رہی ہے سیاہی سفیدی میں بدل گئی رونق جھریوں میں بدل گئی جوانی بڑھاپے میں بدل گئی وہ پھر بھی انتظار کرتی رہی کہ کبھی تو آئے گا تیس برس گزر گئے لیکن فروخ کا کوئی پتہ نہیں کبھی خبر آتی کہ زندہ ہے کبھی خبر آتی کہ شہید ہوگئے ایک رات لوگ عشاہ پڑھ کے جا چکے کہ ایک بڑے میاں ہتھیار سجائے ہوئے مدینے میں داحل ہوئے اپنے حیالات میں غلطاں وپیشماں پریشان و حیران یہ کون ہے یہ وہ جوان ہے جو جوانی میں نکلا تھا کالے داڑھی کے ساتھ آج لوٹا ہے سفید داڑھی کے ساتھ اس سوچ میں ہے کہ بیوی زندہ بھی ہے کہ مر گئی حاملہ تھی کی...

ڈیجیٹل دور اور حق گوئی: کیا سوشل میڈیا پر خاموشی بھی ایک جرم ہے؟

ڈیجیٹل دور اور حق گوئی: کیا سوشل میڈیا پر خاموشی بھی ایک جرم ہے؟



ڈیجیٹل دور اور حق گوئی: کیا سوشل میڈیا پر خاموشی بھی ایک جرم ہے؟ آج ہم ایک ایسے سائنسی اور ڈیجیٹل دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں دنیا کا ہر انسان ایک "میڈیا ہاؤس" بن چکا ہے۔ ماضی میں ظالم اپنے ظلم کو چار دیواری کے پیچھے چھپا لیا کرتا تھا، لیکن آج سوشل میڈیا کے اس دور میں ظلم سیکنڈوں میں پوری دنیا کے سامنے آ جاتا ہے۔ اس کے باوجود، ایک المیہ یہ ہے کہ جیسے جیسے ظلم کو بے نقاب کرنے کے ذرائع بڑھے ہیں، ویسے ہی مصلحت پسندی، خوف اور "اپنے کام سے کام رکھنے" کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔ سیاستِ شرعیہ (Islamic Political Principles) اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، جب ہم آج کے دور کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ سوال شدت سے سامنے آتا ہے کہ: کیا اس ڈیجیٹل دور میں ظلم پر خاموش رہنا یا ری ایکٹ (React) نہ کرنا بھی ہمیں ظالم کا شریکِ جرم بنا رہا ہے؟ 1. الیکٹرانک دور کا 'ابو جہل' اور ہماری ذمہ داری دورِ نبوی میں کلمۂ حق کہنے کا مطلب سیدھا تلواروں کے سایہ میں آنا تھا۔ آج کے دور کا جابر سلطان صرف حکمران یا وڈیرا نہیں ہے، بلکہ وہ جھوٹا پروپیگنڈا، فیک نیوز، اور وہ طاقتور مافیاز ہیں جو انٹرنیٹ پر حق کی آواز کو دبانے کے لیے اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ جب کسی غریب، لاچار یا مظلوم کی ویڈیو یا کہانی آپ کی اسکرین پر آتی ہے، تو شریعت کا اصول 'نہی عن المنکر' (برائی سے روکنا) آپ سے تقاضا کرتا ہے کہ آپ کا کی بورڈ اور آپ کی قلم اس مظلوم کی ڈھال بنے۔ اگر آپ کے پاس ایک پلیٹ فارم موجود ہے اور آپ پھر بھی حق بات کو شیئر کرنے یا اس پر آواز اٹھانے سے کتراتے ہیں، تو یہ مصلحت پسندی ایمان کے تقاضوں کے منافی ہے۔ 2. 'مظلوم کا سایہ' اب صرف ایک کلک کی دوری پر ہے پرانے وقتوں میں کسی مظلوم کی مدد کے لیے دور دراز کا سفر کرنا پڑتا تھا یا عدالتی چکر کاٹنے پڑتے تھے۔ آج کے دور میں مظلوم کا سایہ بننے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ اس کی آواز کو اتنی طاقت بخش دیں کہ مقتدر حلقے اور انصاف کے ادارے اس پر ایکشن لینے پر مجبور ہو جائیں۔ جب آپ کسی ناانصافی کے خلاف لکھتے ہیں، ہیش ٹیگ چلاتے ہیں، یا اس پر شرعی و اخلاقی نقطۂ نظر سے بلاگ پوسٹ تیار کرتے ہیں، تو آپ اس مظلوم کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مظلوم کی داد رسی کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم، چاہے وہ ڈیجیٹل ہو یا جسمانی، اللہ کے ہاں اجر کا باعث ہے۔ 3. سنسرشپ کا خوف اور سیاستِ شرعیہ کا عزم بہت سے لوگ یہ سوچ کر حق بات لکھنے یا شیئر کرنے سے ڈرتے ہیں کہ ان کا اکاؤنٹ بین (Ban) ہو جائے گا یا ان پر کوئی قانونی آنچ آئے گی۔ لیکن سیاستِ شرعیہ کا بنیادی ستون ہی 'خوفِ خدا' کو تمام خوفوں پر غالب کرنا ہے۔ خلفائے راشدین کے دور میں ایک عام شخص بھی بھرے مجمعے میں امیر المومنین کا کرتا پکڑ کر حساب مانگ سکتا تھا۔ اگر ہم آج اس جمہوری اور اسلامی حق کو مصلحتوں کی نذر کر دیں گے، تو معاشرے میں فرعونیت کو جڑ پکڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ حق کے راستے میں آنے والی بندشیں عارضی ہوتی ہیں، لیکن سچ کی گونج مستقل ہوتی ہے۔ 4. کلمۂ حق: صرف تقریر نہیں، عملی کردار ایک عام مسلمان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بلاگ، اپنی گفتگو، اور اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز کو صرف تفریح کا ذریعہ نہ بنائے، بلکہ اسے خیر کے پھیلاؤ کا مرکز بنائے۔ ظالم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اب عوام بیدار ہو چکی ہے اور اس کے ہر ظلم کا محاسبہ کرنے کے لیے قلم تیار ہیں۔ حضورِ اکرم ﷺ کا فرمان یاد رکھیں کہ جو شخص کسی ظالم کو اس کے ظلم سے روکتا ہے، وہ اصل میں اس ظالم پر بھی احسان کرتا ہے کہ اسے مزید گناہ کرنے اور جہنم کا ایندھن بننے سے بچا لیتا ہے۔ نتیجہ: سوشل میڈیا پر صرف اچھے اقوال شیئر کر دینا کافی نہیں ہے۔ جب تک ہم اپنے دور کے فرعونوں، جابروں اور مظلوموں کے حالات پر اسلامی نقطۂ نظر سے بات نہیں کریں گے، ہمارا بلاگ یا ہماری آواز معاشرے میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے گی۔ آئیے مصلحت کی اس چادر کو تار تار کریں، مظلوم کا سایہ بنیں، اور اپنے قلم کو سیاستِ شرعیہ کا نقیب بنائیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جب معاشرے میں ظلم بڑھ جائے تو ایک عام مسلمان کی ذمہ داری