جب معاشرے میں ظلم بڑھ جائے تو ایک عام مسلمان کی ذمہ داری
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
جب معاشرے میں ظلم بڑھ جائے تو ایک عام مسلمان کی ذمہ داری
معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور جب کسی معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور حق تلفی حد سے بڑھنے لگے تو اس کا نقصان صرف مظلوم تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو تنہا جینے کی نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار سماجی وجود بن کر رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جب معاشرے میں ظلم عام ہو جائے، تو ایک عام مسلمان محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتا۔ شریعت اور سیاستِ شرعیہ کی روشنی میں، اس پر چند اہم ترین ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
1. ظلم کو روکنے کی عملی و فکری کوشش (امر بالمعروف و نہی عن المنکر)
ایک عام مسلمان کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ظلم کے خلاف کھڑا ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
"تم میں سے جو کوئی برائی (یا ظلم) دیکھے، تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے؛ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے (اس کے خلاف آواز اٹھائے)؛ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔" (صحیح مسلم)
اس حدیث کی روشنی میں، اگر ایک عام شخص کے پاس انتظامی اختیار نہیں ہے کہ وہ ہاتھ سے ظلم کو روک سکے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ خاموش نہ رہے۔ وہ اپنی زبان اور قلم کا استعمال کرے، مظلوم کا ساتھ دے، اور معاشرتی سطح پر ظالم کے اقدام کو غلط قرار دے۔
2. مظلوم کا سایہ اور مددگار بننا
جب معاشرے میں کسی پر ظلم ہو رہا ہو، تو اس کی مدد کرنا اور اسے اکیلا نہ چھوڑنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مظلوم چاہے کسی بھی رنگ، نسل یا طبقے سے ہو، اس کی داد رسی کی جائے۔ ظالم کا ہاتھ پکڑنا اور مظلوم کو اس کے چنگل سے چھڑانا معاشرتی امن کے لیے ضروری ہے۔ اگر ہم مالی، جانی یا قانونی طور پر کسی مظلوم کی مدد کر سکتے ہیں تو ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، کیونکہ مظلوم کی پکار براہِ راست اللہ کے حضور پہنچتی ہے۔
3. ظالم کی اصلاح اور اس کا ہاتھ روکنا
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن ظالم کی مدد کیسے کی جائے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "اس کا ہاتھ پکڑ لو (یعنی اسے ظلم کرنے سے روک دو)، یہی اس کی مدد ہے۔" (صحیح بخاری)
لہٰذا، ظالم کو ظلم سے باز رکھنا، اسے اللہ کا خوف دلانا اور اس کی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے پرامن اور شرعی طریقے اختیار کرنا بھی ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
4. کلمۂ حق کہنا (سیاستِ شرعیہ کا اصول)
سیاستِ شرعیہ کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کا نظام قائم رہے۔ جب حکمران، وڈیرے یا طاقتور لوگ ظلم پر اتر آئیں، تو ان کے سامنے سچی اور کھری بات کہنا جہاد کا درجہ رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سب سے بہترین جہاد جابر سلطان (ظالم حکمران یا طاقتور) کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔" ایک عام مسلمان کو اپنے اندر اتنی اخلاقی جرات پیدا کرنی چاہیے کہ وہ مصلحتوں کا شکار ہو کر حق کا ساتھ دینا نہ چھوڑے۔
5. خاموشی اور مصلحت پسندی کا خاتمہ
معاشرے میں ظلم اس وقت تک نہیں پھیلتا جب تک اچھے اور شریف لوگ خاموش رہتے ہیں۔ اگر معاشرے کا ہر عام فرد یہ سوچ کر خاموش ہو جائے کہ "مجھے کیا فرق پڑتا ہے، ظلم تو کسی اور پر ہو رہا ہے"، تو اگلی باری خود اس کی ہو سکتی ہے۔ قرآنی اصول ہے کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ صرف گناہ گاروں اور ظالموں پر نہیں آتا، بلکہ ان لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جو ظلم کو دیکھ کر خاموش رہے اور اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔
نتیجہ:
ایک عام مسلمان کی ذمہ داری صرف نماز، روزے تک محدود نہیں ہے۔ جب معاشرہ ظلم کی آگ میں جل رہا ہو، تو ہر فرد کو اپنی بساط کے مطابق عدل کا علمبردار بننا ہوگا۔ ظالم کے خلاف آواز اٹھانا اور مظلوم کا سایہ بننا کوئی اختیاری کام نہیں، بلکہ یہ ایمان کا تقاضا اور معاشرتی بقا کی واحد ضمانت ہے۔ جب تک ایک عام مسلمان کلمۂ حق کہنے کا حوصلہ پیدا نہیں کرے گا، تب تک معاشرے سے ناانصافی کا خاتمہ ممکن نہیں۔
محرر
مفتی عبداللہ انور
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں