جمعیت علمائے اسلام پاکستان: ایک سو سالہ تاریخ، لازوال نظریات اور جمہوری جدوجہد پر طائرانہ نظر
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
جمعیت علمائے اسلام پاکستان: ایک سو سالہ تاریخ، لازوال نظریات اور جمہوری جدوجہد
جمعیت علمائے اسلام پاکستان برصغیر پاک و ہند کی ان تاریخ ساز سیاسی و مذہبی تحریکوں کا تسلسل ہے جس کی جڑیں دارالعلوم دیوبند اور شیخ الہند مولانا محمود حسن کی تحریکی بصیرت میں پیوست ہیں۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی، آئینی اور مذہبی تاریخ کا ایک مضبوط ستون ہے، جس نے ہر دور میں اسلامی اقدار کے تحفظ، جمہوریت کی بحالی اور عوامی حقوق کے لیے بے باک آواز بلند کی ہ
تاریخ اور عظیم علمی و سیاسی پس منظر
جمعیت علمائے اسلام کی بنیادی فکر کی آبیاری برصغیر کے جلیل القدر علماء نے کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد، مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمودؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ اور دیگر اکابرین نے اس پلیٹ فارم سے پاکستان کو ایک واقعی اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے تاریخی کردار ادا کیا۔
1973ء کا متفقہ آئین جمعیت علمائے اسلام کا وہ شاندار اور تاریخی کارنامہ ہے جسے سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ مولانا مفتی محمودؒ نے اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے دیگر تمام جماعتوں کو ایک نقطے پر جمع کیا اور آئین میں اسلامی دفعات شامل کروا کر پاکستان کی اسلامی شناخت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
سیاسی بصیرت اور پارلیمانی نقشِ قدم
جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ پرامن، جمہوری اور آئینی راستے پر یقین رکھا ہے۔ تشدد اور انارکی کی مذمت کرتے ہوئے اس جماعت نے ووٹ کے ذریعے تبدیلی اور عوام کے مقدمے کو پارلیمان کے ایوانوں میں لڑنے کی روایت قائم کی۔
* آئینی تحفظ: عقیدہ ختمِ نبوت، ناموسِ رسالت، اور آئینِ پاکستان کی اسلامی دفعات کا دفاع جمعیت کا منشورِ حیات رہا ہے۔
* جمہوریت کی پاسداری: آمریت کے خلاف ہر دور میں جمعیت کے اکابرین نے قید و بند اور صعوبتیں برداشت کیں لیکن کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔
* وفاق کی مضبوطی: بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ سے لے کر پنجاب اور گلگت بلتستان تک، جمعیت علمائے اسلام وفاقِ پاکستان کی زنجیر کا ایک اہم اور یکجا رکھنے والا لنکر ہے۔
موجودہ دور اور قیادت کی بصیرت
آج کے معاشی، جغرافیائی اور سیاسی بحرانوں کے دور میں، جمعیت علمائے اسلام کا کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جماعت نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی شطرنج پر اپنی قابلیت کا لوہا منوایا، بلکہ عالمی سطح پر اسلام کے روشن، پرامن اور متوازن چہرے کو متعارف کرایا۔
جمعیت کے تاریخ ساز ملین مارچوں اور جلسوں نے ثابت کیا کہ یہ جماعت عوام کے دلوں میں دھڑکتی ہے اور ہر مشکل وقت میں قوم کی رہنمائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ہمارا عزم اور پیغام
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کا پیغام واضح ہے:
* ایک ایسا پاکستان جہاں قرآن و سنت کی حکمرانی ہو،
* جہاں عدل و انصاف کا بول بالا ہو،
* جہاں غریب کو اس کا حق ملے اور مظلوم کی داد رسی ہو،
* اور جہاں ملکی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
جمعیت علمائے اسلام محض ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ فکرِ دیوبند اور پاسبانِ آئین کا وہ روشن چراغ ہے جو ان شاء اللہ آنے والی نسلوں کی بھی سیاسی و مذہبی ر
ہنمائی کرتا رہے گا۔
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں