ماں نے کمال کر دکھایا

 ❤❤❤🫶🏻 ❤❤❤ ایک تابعی بزرگ تھے حضرت ابو عبدالرحمن فروخؒ صاحب تاریح بغداد نے لکھا ہے کہ اپنے بیوی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ترکستان میں جہاد ہو رہاہے میں چلا جاٶ بیوی کہنے لگی میں حاملہ ہو فرمانے لگے تو اور تیرا حمل اللہ کے سپرد یہ تیس ہزار درہم ہے یہ تو رکھ لے اور مجھے اجازت دے میں اللہ کے راستے میں جاٶ فروحؒ نکلے ایک ماہ ایک سال دو سال تین سال کوئی خبر نہیں فروح کہاں گئے پیچھے  بیٹا پیدا ہوا پروان چڑھا جوان ہوا بیوی کی جوانی ڈھل رہی اپنے حاوند کے انتظار میں دیواروں کے ساتھ جوانی گزر رہی ہے سیاہی سفیدی میں بدل گئی رونق جھریوں میں بدل گئی جوانی بڑھاپے میں بدل گئی وہ پھر بھی انتظار کرتی رہی کہ کبھی تو آئے گا تیس برس گزر گئے لیکن فروخ کا کوئی پتہ نہیں کبھی خبر آتی کہ زندہ ہے کبھی خبر آتی کہ شہید ہوگئے ایک رات لوگ عشاہ پڑھ کے جا چکے کہ ایک بڑے میاں ہتھیار سجائے ہوئے مدینے میں داحل ہوئے اپنے حیالات میں غلطاں وپیشماں پریشان و حیران یہ کون ہے یہ وہ جوان ہے جو جوانی میں نکلا تھا کالے داڑھی کے ساتھ آج لوٹا ہے سفید داڑھی کے ساتھ اس سوچ میں ہے کہ بیوی زندہ بھی ہے کہ مر گئی حاملہ تھی کی...

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس 04 اگست 2026

 

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس   04 اگست 2026

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس

 04 اگست 2026

میرے خیال میں ہم پہلے ہنہ اوڑک کا اور زیارت کے شہداء کے لیے اور باقی بھی جو دوست جہاں وفات پائے ہیں یا شہیــد ہوئے ہیں، ان کے لیے دعائے فاتحہ کریں۔

دعائے مغفرت کے بعد

میرے خیال میں بہتر یہ ہوگا کہ آپ حضرات کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو وہاں سے شروع کر لیتے ہیں میں پھر آپ کو جوابات دے دوں گا۔


صحافی: بلوچستان کے موجودہ حالات پر آپ کیا کہیں گے؟

دیکھیے! بلوچستان کے حالات کو، جو پورے ملک کے حالات ہیں، ہمارے صوبہ خیبر پختون خواہ میں ہیں، یہاں پر بلوچستان میں ہیں، حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے، مسلــح گروہ ہیں اور مختلف علاقوں میں اضطراب ہے، عوام پریشان ہیں، ان کی زندگی اجیرن ہے اور حالات اب ایسے ہیں کہ لوگ اپنی علاقوں میں، اپنے دیہاتوں میں، اپنے محلوں میں، اپنے گھروں میں محفوظ نہیں سمجھتے اپنے آپ کو، اپنے بچے اب وہ تعلیم کے لیے سکول نہیں بھیج سکتے، محنت مزدوری کے لیے اور حلال کمائی کے لیے ان کے راستے بند ہو چکے ہیں۔

تو یہ تمام حالات ہیں جو اس وقت ملک اس کا سامنا کر رہا ہے لیکن ملک کو چلانے والے اس ساری صورتحال سے غافل ہیں اور کسی قسم کی کوئی ایسی قومی سطح کی پالیسی موجود نہیں ہے کہ جس میں سب مل کر ہم ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے سوچیں اور طاقتور قوتیں جو ہیں وہ اپنی طاقت کی بنیاد پر مسئلہ کو سمجھتے ہیں کہ ہم حل کر لیں گے، لیکن طاقت کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں رہا ہے، طاقت سے مسائل اور الجھتے ہیں، اور پہلے تو ہم خیبرپختونخواہ یا بلوچستان کی بات کرتے تھے اور اب کشمیــر کی صورتحال بھی بہتر نہیں ہے، وہاں پر بھی ایک اضطراب ہے اور وہاں پر بھی لوگ مہینے سے زیادہ عرصہ ہو گیا دھرنا دیے ہوئے ہیں اور وہ بار بار ہمیں آواز دے رہے ہیں کہ ہمارے مسئلے کو آپ حل کریں، لیکن اس پر بھی حکومت کی طرف سے اب تک کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہو رہا، نہ اس پر کوئی جواب آ رہا ہے، نہ وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم کسی کو اس میں کردار ادا کرنے دیں۔

تو یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو میں سمجھتا ہوں کہ قومی سطح پر مشاورت کے محتاج ہیں اور ایک انصاف پر مبنی پالیسی بنانے کا تقاضہ کرتی ہیں۔


صحافی:

مولانا صاحب:

یہ سوال آپ کے ذہن میں کیوں آیا گیا ہے، یہ ہمارے ذہن میں کیوں نہیں آرہا، میرا خیال میں اس کو ہم پہ چھوڑیں، کچھ چیزیں ہمارے اپنے گھر کی ہوتی ہیں۔


صحافی:

مولانا صاحب! محسن نقوی صاحب نے اپنے پریس کانفرنس میں اس بات کا ذکر کیا کہ ملک میں نئے صوبے بنانے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

مولانا صاحب:

دیکھیے! نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئے تحصیلیں بنانا، نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں اور انڈیا میں بھی صوبے بنے ہیں لیکن ہمیں اپنے ملک کی جو انتظامی ساخت ہے اس کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے، نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہو گئے ہیں اب یہ معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے یہ بات جو ہے وہ اپنی ذاتی کیپیسٹی میں کی ہے، لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے جبکہ وہ اس وقت ایک کابینہ کے ممبر ہیں، کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ میری آشیر باد پہ ہوا ہے یا میری اجازت سے ہوا ہے یا کابینہ یہ کہہ سکتی ہے وفاقی کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے، یا کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے، کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ صوبے بنائے جائیں، صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں ہے، انــڈیا میں بھی بن رہے ہیں اور جگہ بھی بنتے ہیں لیکن جس طرح ہمارے ملک میں بات کی جا رہی ہے ہم نے بغیر تیاری کے، بغیر تیاری کے جب میں چیختا رہا ایک سال سے زیادہ عرصہ میں چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا ہے، ہمارے سر پہ تھونپ دیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو، ہم نے کہا نہیں ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں یہ ایک علاقہ، فاٹا کے عوام، ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں ذرا اس پر وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبہ میں انضمام چاہتے ہیں وہ ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں اور یا یہ کہ وہ اپنی اسی پوزیشن میں رہنا چاہتے ہیں، لیکن نہیں پوچھا گیا ان سے، آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہے وہاں کے عوام کی زندگی اب وہ نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہے یا ہم صوبے کا حصہ ہے، وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے اور باقی نظام تو دور کی بات ہے یہ کوئی کیک تو نہیں ہے کہ آپ آرام سے چھری لے کر اس کو بس جس طرح چاہیں کاٹ دے، صوبے بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے، آپ مجھے بتائے کہ اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترک مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے تو اس وقت وہ آگ بجائیں گے یا اس وقت وہ کہیں گے آئیے بھائی ذرا آپس میں اس کو تقسیم کر لیں۔

تو ہر چیز کے لئے کوئی ماحول بنانا، سوائے اس کے کہ جو پبلک کو در پیش پرابلمز ہیں، جو مشکلات ہیں، جو اس وقت بد امنی ہے، زندگی اجیرن ہے اس سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ کو ہم سب کو ایک نئی بحث مل جاتی ہے، روز روز نیا ایشو اٹھاتے ہیں، اس پر بحث ہوتی ہے، یہ صوبہ صوبہ پہلے کئی بار ہو چکا ہے، ہم صوبے کے خلاف نہیں ہیں کہ صوبے نہ بنیں اصولی طور پر نہیں ہیں ہم، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے پھر شکلیں کیا بنیں گی اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے پھر شکل کیا بنیں گی اور اس پر ہر صوبے کے عوام کا ایک ردعمل آئے گا اور وہ کہیں گے کہ ہونا چاہیے، نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے اس صوبے میں شامل کرو، مجھے نہ شامل کرو، یہ ساری چیزیں جو ہیں یہ ابھی باقی ہیں اور ایک مشکل مسئلہ کو اتنے آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا کہ جو شاید ان کے بس میں نہ ہو اور مشکلات اور پچھلی چیزیں جو بھی اضافہ کر لے۔

تو یہ مجھے خطرات ہیں کہ ہر چیز جو ہے مشاورت سے ہونی چاہیے تھی، یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے، یہاں پر مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان قومیتوں کے اپنی ایک شناخت ہے، آپ اس کو نظرانداز کریں گے یا ان کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے، یہ سارے معاملات وہ ہیں جس پر غور فکر کی ضرورت ہے۔


صحافی:

مولانا صاحب محمود خان اچکزئی صاحب نے بلوچستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے قامی جرگہ بلانے کے اعلان کیا ہے۔

مولانا صاحب:

قومی جرگہ کس بنیاد پر بلایا ہے؟


صحافی:

جو حالات ہیں پشتون بیلٹ میں یا بلوچ بیلٹ میں، انہوں نے قامی جرگہ بلانے کے اعلان کیا ہے۔

مولانا صاحب:

مجھے چونکہ پتہ نہیں ہے تو ذرا مجھے واضح کر دیں کہ انہوں نے کس کا اجلاس بلایا ہوا ہے؟


صحافی:

انہوں نے ایک جرگہ بلانے کے اعلان کیا ہے قامی جرگہ

مولانا صاحب:

میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں مجھے چونکہ تفصیل معلوم نہیں ہے میں اس پر تبصرہ نہیں کرتا لیکن میں ایک اور بات کرنا چاہتا ہوں۔


صحافی:

مولانا صاحب بدامنی اور مشکلات کا آپ نے ذکر کیا اور اس وقت جمعیۃ علماء اسلام واحد سیاسی جماعت ہے پورے بلوچستان سے بلکہ پورے پاکستان میں عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، تو اس بدامنی کے خاتمے کے لیے آپ کیا اقدامات کریں گے؟

مولانا صاحب:

میں یہی بات کرنا چاہتا ہوں جی، جہاں تک محمد خان اچکزئی کا تعلق ہے وہ لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، ان کی کیپیسٹی جو ہے وہ ایک حلقے یا ایک خاص قومیت تک محدود نہیں ہے اس وقت، ان کو میرا مشورہ یہ ہوگا کہ فوری طور پر جوائنٹ اپوزیشن کا اجلاس بلائیں تاکہ ملکی سطح پر ان بحرانوں کا مداوا کرنے کے لئے ہم بیٹھیں اور اس کے لئے ہم کوئی سوچ بچار کریں وہ ایک علاقے کے لیڈر نہیں ہے اس وقت، کہ وہ بس ایک پشتون بیلٹ میں بیٹھ کر پشتونوں کو بلا لیں۔ تو میں ان کو یہ تجویز کروں گا آج کوئٹہ میں بیٹھ کر آپ حضرات کی موجودگی میں کہ بجائے اس کے کہ وہ ایک علاقائی اجلاس طلب کریں وہ ملکی سطح کا پوری اپوزیشن کا اجلاس طلب کریں اور اس میں پوری ملک کے حوالے سے ہم سوچیں اور اگر وہ نہیں کر سکیں گے تو جیسے آپ نے فرمایا میں آپ کے سوال کے جواب میں بات کر رہا ہوں اپنے طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں کہ پھر جمعیۃ علماء اسلام پوری ملک کی سطح پر ایک آل پارٹیز کی طرف جائے گی اور اس کے لیے پھر، لیکن ہم ان کو موقع دے رہے ہیں کیونکہ منصب انہی کا ہے۔


صحافی:

مولانا صاحب آپ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آج کل زیادہ بات کر رہے ہیں، مخالفت کی وجہ کیا ہے اور آپ کے حوالے سے یہ تجزیے بھی ہوتے ہیں کہ آپ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں ان کو ری پلیس کرنا چاہ رہے ہیں، مطلب آپ متبادل ہیں، تو کیا وجہ ہے آپ اسٹیبلشمنٹ کی آج کل زیادہ مخالف کر رہے ہیں، وجہ کیا ہے؟

مولانا صاحب:

دیکھیے! میری پوری زندگی شاید آپ کے سامنے نہ ہو کیونکہ آپ نوجوان ہیں اور میری زندگی کا تسلسل جو ہے اس سے شاید آپ بھی زیادہ واقف نہ ہوں میں نے اس ملک میں جمعیۃ علماء اسلام کے نظریہ کو فروغ دینے کے لیے زندگی گزاری ہے، دنیا میں سارے نظام ناکام ہو چکے ہیں اگر ناکامی والی باتیں ہیں تو ناکام تو پوری دنیا میں اب جمہوریت بھی ہے، آمریت بھی ناکام ہو گئی ہے، کمیونزم بھی ناکام ہو چکا ہے اور اب رہ گیا ہے مغرب کی سرمایہ داریت، مشرق کی آمریت اور عسکریت اور اب یہ چیزیں ہم پر حکومت کریں گی۔ ہم نے پاکستان میں اپنی نظریات، آئین کی مطابق قرآن سنت کا نظام، ایک پارلیمانی جمہوری نظام، جس میں سیول سپرمیسی کا ایک نظریہ موجود ہے پاکستان میں مارشل لائیں لگتی رہی ہیں، پاکستان میں سیاستدانوں کو موقع نہیں دیا گیا، پھر اگر سیاستدانوں کو موقع دیا گیا تو انتخابات میں دھاندلی کر کے اپنی مرضی کی اسمبلیاں بنائی گئیں، اپنی مرضی کے حکومتیں بنائی گئیں جس سے کہ عوام کے نظریہ کے مطابق کام نہیں ہو رہا اور چونکہ اسٹیبلشمنٹ کی سطح پر یہ ساری چیزیں جو ہیں انجینئرڈ ہوتی ہیں تو ہمارا فرض ہوتا ہے کہ ہم ملک آئین کی بات کریں، ملک کو آئین کے مطابق چلاؤ، یہ ہمارے پورے قوم کے درمیان ایک میثاق ملی کے حیثیت رکھتا ہے، اس نظریہ پر میں مسلسل قائم رہا ہوں، مسلسل بات کر رہا ہوں اور یہ چیزیں جو آپ کر رہے ہیں یہ تو گلی کوچوں میں کہیں تھڑوں پر اس قسم کی چیزیں ڈسکس کی جاتی ہیں، یہ اس لیول کے نہیں ہیں کہ آپ مجھ سے براہ راست اس قسم کا سوال کریں، پہلے تھوڑی سی سیاست سیکھ لیں اس کے بعد پھر ایسے سوالات کریں۔


صحافی:

مولانا صاحب آپ کیا کہتے ہیں کہ بلوچستان کے جو مسائل ہیں ان کی وجہ سردار ہیں، جمعیۃ علماء کیا سمجھتی ہے کہ بلوچستان کے جتنے مسائل ہیں ان کی وجہ کون ہے اور آپ نے خود بھی ذکر کیا اور محسن نقوی صاحب نے بھی پچھلے دنوں کہا کہ جمہوری نظام ناکام ہوگیا ہے فلاپ ہوگیا ہے، کیا آپ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ یہ نظام بیٹھ گیا ہے اور اب کسی نئے نظام کی طرف جانا ناگزیر ہے؟

مولانا صاحب:

میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پر پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، لیکن اب کیا کرنا ہے ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل ہے، آج بھی ہے کل بھی تھا، وہ ملک کا آئین ہے آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی یہاں پر جمہوریت اللہ کی دین اور احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی، عوام میں خود اعتمادی بھی آئے گی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہیے ہم پر جبرا کوئی حکومتیں مسلط نہ کی جائے، لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں کہ جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہیں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور پیچھے لگام انہی کے ہاتھ میں ہوا کرتے ہیں۔

تو اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے، میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ کس کیپیسٹی میں انہوں نے یہ باتیں کی ہیں، وہ کابینہ کے ممبر ہیں اگر ناکام ہو چکا ہے تو پھر یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں، نہیں! نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بڑی بڑی کرنی ہے۔ تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں،

چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر

ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے


صحافی:

مولانا صاحب آئین کی بات آپ کرتے ہیں، تریہتر کے آئین میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہیں، ترامیم آئی ہیں، پھر آئین تو وہ نہیں رہا جس کی آپ بات کر رہے ہیں۔

مولانا صاحب:

دیکھیے! آئین بنتا ہے، آئین کا مقام جو ہے وہ یقیناً ایک بہت بڑے دستاویز کی ہوتی ہے، لیکن وہ قرآنی دستاویز نہیں ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے، تبدیلی کی بھی اپنے اصول و ضوابط اس کے اندر ہیں، پارلیمنٹ اور اس کے دو تہائی اکثریت سے، چنانچہ جب بھی مارشل لائیں آئیں ہیں اس نے حلیہ بگاڑ کہ رکھ دیا ہے اس آئین کا، لیکن بڑی محنت اور کوشش کے بعد ایک اٹھارویں ترمیم آئی جس میں آئین کو اول سے لے کر آخر تک اس کی اصلاح کی گئی، تمام پارٹیاں انہوں نے نو مہینے اس پر کام کیا، جتنا کام سن تریہتر کے پورے آئین کے بننے پر ہوا تھا اس سے کچھ زیادہ وقت وہ اٹھارویں ترمیم نے لیا تھا جس میں تمام پارٹیاں ایک چھت کے نیچے بیٹھیں اور انہوں نے اس پر کام کیا اور ایک متفقہ ترمیم جس سے کہ آئین کی اصلاح ہو گئی، اس کے بعد ابھی جو چھبیسویں ترمیم آئی ہم نے ایک جمعیۃ علماء اسلام، ایک جمعیۃ علماء اسلام نے تنہا مذاکرات کی ہے حکومت کے ساتھ اور ایک مہینے کے اندر ہم نے ان کو چونتیس شقوں سے دستبردار کیا اور ان کو ان کی مرضی کے مطابق آئین نہیں لانے دیا اور اس پر پھر ہم نے کچھ اپنی مطالبات شامل کیے سود کے خاتمے کے حوالے سے، وفاق شرعی عدالت کے حوالے سے، اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات کے حوالے سے، وہ قبول ہو گئیں، دینی مدارس کے حوالے سے ترمیم آئی، آج وہ سب بھول گئے ہیں جیسے کوئی بات ہوئی ہی نہیں تھی، نہ اس کے لئے کوئی عمل درامد ہو رہا ہے۔ تو اس کے بعد ستائیسویں ترمیم آئی اور ابھی کہتے ہیں اٹھائیسویں پتہ نہیں اس میں کیا کچھ لائیں گے تو وہ جو کچھ انہوں نے چھبیسویں ترمیم میں تسلیم کر لیا تھا اب وہ مقاصد دوبارہ جو برے مقاصد ہیں جو آئین کی روح کے منافی ہیں جو چھبیسویں آئین ترمیم کی روح کے منافی ہیں وہ لاکر ملکی آئین کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں، لیکن ہم جنگ لڑیں گے، ہم اس بات پھر جدوجہد جاری رکھیں گے، ہم کسی کو بھی اس بات کا حق نہیں دے سکتے کہ وہ آئین کو اپنا کھلونا بنا دیں، وہ قومی دستاویز ہیں ہم اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ پارلیمنٹ کو کھلونا بنائیں، پارلیمنٹ آزاد ہے اور اس کو پورے اختیار کے ساتھ عوام کو نمائندہ بن کر سامنے آنا چاہیے۔


صحافی:

آپ نے بار بار بات کی کہ آئینی ترمیم اس کے روح کے منافی ہیں، لیکن جتنے بھی آئینی ترمیم ہوئے وہ پارلیمنٹ میں ہی ہوتی ہیں، وہاں پر پولٹیکل پارٹیاں موجود ہیں، پولٹیکل پارٹیاں وہاں پر ووٹ بھی کرتی ہیں پھر باہر آکر وہ عوام سے آئین کی بات کرتی ہیں، تو جب سیاسی جماعتوں نے ہی آئینی ترامیم کو منظور کروانا ہے تو پھر عوام کس کی طرف دیکھیں گے؟

مولانا صاحب:

ایک بات میں بتا دوں آپ کو ذرا نوٹ کر لیں اس کو، سیاست سیاستدان، سیاسی جماعتیں یہ ایک طبقہ نہیں ہیں، یہ آپس میں حریف ہیں، ایک دوسرے کے مدد مقابل ہوتی ہیں لہٰذا جب ہمارا سیاستدان کمپرومائز کرتا ہے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اور کمپرومائز کر کے وہ پھر ان کے مرضی کے مطابق پانچ سال گزارتا ہے اس کا ملبہ تمام سیاستدانوں پہ نہ ڈالیے۔


صحافی:

مولانا صاحب! بلوچستان گورنمنٹ میں آپ کی پارٹی، تیسری بڑی پارٹی ہے کیا حکومت کی تبدیلی یا حکومت میں شامل ہونے کے بارے میں کوئی آپ کی سوچ نہیں ہے؟

مولانا صاحب:

اس پر تو صوبائی جماعت نے پھر سوچنا ہوتا ہے کیونکہ ہم اس قسم کے معاملات پر پہلے صوبے کے حوالے کرتے ہیں لیکن اس وقت تک فیصلہ یہی ہے کہ ہم حکومت میں شامل نہیں ہو رہے۔


صحافی:

مولانا صاحب! بلوچستان میں آپ نے دو تین بڑوں سے ملاقات کی ہے وہ کس حوالے سے کی ہے؟

مولانا صاحب:

اسی حوالے سے، لیکن ہماری جماعت ابھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے کہ ہم شامل ہوں۔


صحافی:

بلوچستان کے نمائندے یہ گلہ کرتے ہیں کہ ان کی آواز بلند نہیں ہوتی، اب جب سینیٹ یا قومی اسمبلی میں اسپیچ ہوتی ہے بلوچستان کے حوالے سے، تو اس نمائندے کی اسپیچ سنسر کی جاتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

مولانا صاحب:

یہ تو آپ میری نمائندگی کر رہے ہیں. اس لیے کہ میری تقریر سنسر کی جا رہی ہے.


صحافی:

مولانا صاحب! اس وقت ملک میں جو نظام نافذ ہے۔ ڈھائی سال میں آپ کی جماعت کیوں ایک مؤثر عوامی تحریک شروع نہیں کر پائی اس حکومت کے خلاف یا اس رجیم کی خلاف؟

مولانا صاحب:

میرے خیال میں اس وقت بھی سب سے بڑی تحریک جے یو آئی کی ہے۔ جتنے ہم نے جلسے کیے ہیں ملین مارچ کے صورت میں کیے ہیں، کوئٹہ میں کیا ہو، ہم نے پختونخواہ میں کیں ہیں، پنجاب میں کیا ہے، ایک ایسے شہر میں کیا کہ جو نہ ضلعی ہیڈکوارٹر ہے، نہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہے اور وہاں پر جو پبلک آئی تو وہ اب تک ہضم نہیں ہو رہی ان لوگوں سے، تو اس وقت بھی پبلک کی آواز جے یو ائی ہی ہے اور سب سے بڑی سٹریٹ پاور جو ہے وہ جمعیۃ علماء اسلام کو تسلیم کیا جارہا ہے۔


صحافی:

مولانا صاحب یہ بتائیے گا کہ مستقبل قریب میں کیا آپ پاکستان میں، بھــارت میں جس طرح کاکروچ پارٹی نے تحریک چلائی، کیا آپ پاکستان میں کیا آپ ایسی کوئی تحریک شروع ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں جس کو نوجوان لیڈ کر رہے ہوں گے؟

مولانا صاحب:

دیکھیے! نوجوانوں کے اپنے جذبات ہوتے ہیں۔ لیکن سیاست میں ہمارے نوابزادہ نصراللہ خان فرمایا کرتے تھے کہ نئے چہرے یہ فلموں کی اصطلاح ہے سیاست کی اصطلاح نہیں ہے، تو جہاں تک ہے نوجوانوں کا تعلق، جوانی میں جذبات غالب ہوتے ہیں اور بصیرت، تجربہ وہ ذرا کم ہوتا ہے، جو سیاست میں ایک لمبا عرصہ گزار کر بہت سے حالات سے گزر چکے ہوتے ہیں، تجربات سے تو وہ جب پالیسیاں بناتے ہیں وہ جب ایک آئیڈیا قوم کو دیتے ہیں اس میں زیادہ وزن ہوا کرتا ہے، تو ہمارا نوجوان کو بھی سوچنا چاہیے کہ ان کے جذبات کا احترام وہ ہمارے آنے والے مستقبل ہیں اور ہم اپنے مستقبل کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں تو ایک ایسا نوجوان کہ جس کے مستقبل وہ میرا مستقبل ہوگا میں اپنے مستقبل کو ایک اچھا مستقبل بنانا چاہوں گا اس کو روشن بنانا چاہوں گا تو مجھے اسی امیدیں وابستہ ہیں اور میں چاہوں گا کہ ان کی جو جذبات ہیں وہ ضائع نہ ہوں اور وہ جذبات کے رو میں بہہ کر ایسی تحریکیں کہ جس سے کے بعد جو آپ کی تجربہ کار سیاست ہوتی ہے جن کو حالات سے گزرے ہوئے جو عرصہ گزر چکا ہوتا ہے وہ پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اس سے بحران پیدا ہوتی ہے۔


صحافی:

مولانا صاحب! ڈاکٹر مالک صاحب نے آپ سے بھی ملاقات کی اسلام آباد میں، پرائم منسٹر سے بھی ان کی ملاقات ہوئی ہے اب خبریں گرم ہیں کہ وہ وزیر اعلیٰ بلوچستان بنائے جارہے ہیں تو جمعیۃ کیا سمجھتی ہے کہ آپ سے جو ملاقات ہوئی تھی وہ سیاسی ملاقات تھی اس سلسلے میں، یا اگر ڈاکٹر مالک وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو جمعیۃ کیا ان کا ساتھ دے گی؟

مولانا صاحب:

حضرت وہ ضرور تشریف لائے تھے اور ہمارے لئے قابل احترام ہے، ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں، پہلے بھی وزیر اعلیٰ رہے ہیں لیکن اس وقت یہ بات کہ کیا وہ وزیر اعلیٰ بن رہے ہیں یا نہیں اس کا مجھے کوئی علم نہیں ہے

۔ مفتی عبداللہ انور 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیت علمائے اسلام پاکستان: ایک سو سالہ تاریخ، لازوال نظریات اور جمہوری جدوجہد پر طائرانہ نظر

اسلام اور جدید سائنس: فکر اور آگہی کا سفر

اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026

جب معاشرے میں ظلم بڑھ جائے تو ایک عام مسلمان کی ذمہ داری

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا

ماں نے کمال کر دکھایا

ڈیجیٹل دور اور حق گوئی: کیا سوشل میڈیا پر خاموشی بھی ایک جرم ہے؟