ماں نے کمال کر دکھایا

 ❤❤❤🫶🏻 ❤❤❤ ایک تابعی بزرگ تھے حضرت ابو عبدالرحمن فروخؒ صاحب تاریح بغداد نے لکھا ہے کہ اپنے بیوی کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ترکستان میں جہاد ہو رہاہے میں چلا جاٶ بیوی کہنے لگی میں حاملہ ہو فرمانے لگے تو اور تیرا حمل اللہ کے سپرد یہ تیس ہزار درہم ہے یہ تو رکھ لے اور مجھے اجازت دے میں اللہ کے راستے میں جاٶ فروحؒ نکلے ایک ماہ ایک سال دو سال تین سال کوئی خبر نہیں فروح کہاں گئے پیچھے  بیٹا پیدا ہوا پروان چڑھا جوان ہوا بیوی کی جوانی ڈھل رہی اپنے حاوند کے انتظار میں دیواروں کے ساتھ جوانی گزر رہی ہے سیاہی سفیدی میں بدل گئی رونق جھریوں میں بدل گئی جوانی بڑھاپے میں بدل گئی وہ پھر بھی انتظار کرتی رہی کہ کبھی تو آئے گا تیس برس گزر گئے لیکن فروخ کا کوئی پتہ نہیں کبھی خبر آتی کہ زندہ ہے کبھی خبر آتی کہ شہید ہوگئے ایک رات لوگ عشاہ پڑھ کے جا چکے کہ ایک بڑے میاں ہتھیار سجائے ہوئے مدینے میں داحل ہوئے اپنے حیالات میں غلطاں وپیشماں پریشان و حیران یہ کون ہے یہ وہ جوان ہے جو جوانی میں نکلا تھا کالے داڑھی کے ساتھ آج لوٹا ہے سفید داڑھی کے ساتھ اس سوچ میں ہے کہ بیوی زندہ بھی ہے کہ مر گئی حاملہ تھی کی...

اسلام اور جدید سائنس: فکر اور آگہی کا سفر


اسلام اور جدید سائنس: فکر اور آگہی کا سفر

انسان ہمیشہ سے کائنات کے رازوں کی تلاش اور حقیقت کی کھوج میں رہا ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو کائنات، زمین و آسمان اور اپنی ذات کے اندر غور و فکر کرنے کی بار بار دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:

> "کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی حکومت پر اور جو چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں ان پر غور نہیں کیا؟"

> (سورۃ الاعراف: 185)

علم کی اہمیت اور اسلامی تاریخ

اسلام نے پہلے ہی دن سے "اقرأ" (پڑھیے) کا نعرہ دے کر انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف گامزن کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے دھارے میں مسلمانوں نے نہ صرف دینی علوم میں بلکہ طب، فلکیات، ریاضی اور طبیعیات میں بھی وہ کارنامے سرانجام دیے جو آج کی جدید سائنس کی بنیاد بنے۔

 * ابن الہیثم: جنہیں بصریات (Optics) اور کیمرے کا بانی مانا جاتا ہے۔

 * ابن سینا: جن کی کتاب "القانون فی الطب" صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی۔

 * البیرونی: جنہوں نے زمین کا محیط اور رداس اس دور میں معلوم کیا جب جدید الات کا تصور بھی نہیں تھا۔

جدید سائنس اور قرآنی حقائق

آج کی جدید سائنس جیسے جیسے کائنات کی وسعتوں کو تسخیر کر رہی ہے، ویسے ویسے قرآنی حقائق کی سچائی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر:

 * کائنات کی وسعت: سائنس اب مانتی ہے کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے، جبکہ قرآن کریم نے 1400 سال پہلے واضح فرما دیا تھا:

   "اور آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا اور ہم ہی اس کو کشادگی دینے والے ہیں۔" (سورۃ الذاریات: 47)

 * انسان کی تخلیق کے مراحل: جنین (Embryo) کی پرورش کے جو مراحل آج الٹراساؤنڈ سے واضح ہوئے ہیں، ان کا تفصیلی ذکر قرآن میں موجود ہے۔

نتیجہ و پیغام

اسلام اور سائنس میں کوئی تصادم یا ٹکراؤ نہیں ہے۔ سائنس اللہ تعالی کی بنائی ہوئی کائنات کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ قرآن انسان کی ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ جب انسان عقل اور ایمان کو ملا کر کائنات میں غور و فکر کرتا ہے تو اس کے دل سے خود بخود "ربنا ما خلقت هذا باطلاً" (اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا) کی صدا بلند ہوتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی دینی و علمی روایت کو دوبارہ زندہ کریں اور علم کے ہر شعبے میں نمایاں مقام حاصل کریں۔

مفتی عبداللہ انور 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026

جب معاشرے میں ظلم بڑھ جائے تو ایک عام مسلمان کی ذمہ داری

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا

ماں نے کمال کر دکھایا

ڈیجیٹل دور اور حق گوئی: کیا سوشل میڈیا پر خاموشی بھی ایک جرم ہے؟